خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 64 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 64

*1946 64 خطبات محمود کھلنے والے ہیں۔امریکہ کی طرف ہمارا مبلغ روانہ ہو گیا ہو گا یا کل پر سوں تک انشاء اللہ روانہ ہو جائے گا۔کیونکہ جہاز والوں نے یہ وعدہ کیا تھا کہ بائیں سے چھپیں تک جو جہاز جائے گا اُس میں خلیل احمد صاحب ناصر کو جگہ دے دی جائے گی۔پس یا تو اُن کو آج جگہ مل گئی ہو گی یا کل پرسوں اور اتر سوں تک مل جائے گی۔اور اِس طرح امریکہ کی طرف ہمارا تحریک جدید کا پہلا مبلغ روانہ ہو جائے گا۔گو تبلیغ کا کام ابھی شروع نہیں ہو گا کیونکہ خلیل احمد صاحب ناصر کو پاسپورٹ طالب علم کی حیثیت سے ملا ہے۔وہ وہاں کسی یونیورسٹی میں داخل ہوں گے اور اس کے بعد اگر گور نمنٹ نے اجازت دی تو وہ وہاں رہ سکیں گے ورنہ پھر کسی دوسرے ملک میں واپس آکر اُنہیں دوبارہ پاسپورٹ لے کر جانا ہو گا۔دو اور مبلغ بھی تیار ہیں جن کے متعلق محکمہ کی طرف سے سستی برتی گئی ہے اور اب تک ان کے پاسپورٹ مکمل نہیں کئے گئے۔ان سے جب پوچھا گیا کہ کیوں ابھی تک ان کے پاسپورٹ مکمل نہیں ہوئے تو منتظم صاحب نے جواب دیا کہ ابھی ان دونوں کے متعلق غور کیا جا رہا ہے کہ آیا وہ پاسپورٹ کے لئے درخواست دیں یا نہ دیں۔گویا انہوں نے ایک سال درخواست دینے کے لئے غور کرنے پر لگا دیا۔جس کی وجہ سے ان دونوں کو پاسپورٹ نہیں مل سکے۔اور چونکہ مبلغ کی حیثیت میں پاسپورٹ حاصل کرنا بہت مشکل ہوتا ہے اس لئے اب وہاں ہمیں کسی اور ذریعہ سے جانا ہو گا۔اور چونکہ ہم جانتے ہیں کہ یہ کام خدا تعالیٰ کا ہے اس لئے خدا تعالیٰ ہمیں کوئی نہ کوئی تدبیر ضرور سمجھا دے گا یا کسی نہ کسی رنگ میں ان کے افسروں کی عقلوں پر پتھر ڈال دے گا۔جس کی وجہ سے ہمارے آدمی باوجو د مخالفت کے ان ملکوں میں گھس ہی جائیں گے۔پس ایک وسیع کام ہمارے سامنے ہے۔اس لئے ہمیں اب ہر قدم آگے کی طرف ہی بڑھانا چاہئے اور تحریک جدید کا دور اول ہمیں شاندار طور پر ختم کرنا چاہئے۔اس سال کو ملا کر آٹھ سال باقی رہ جاتے ہیں۔ہمیں چاہئے کہ اس عرصہ میں ہم دور دوم کو اتنا مکمل کر لیں کہ اس کی آمد دور اول سے بڑھ جائے۔ابھی تو دور دوم کے وعدے بہت کم ہیں۔پچھلے سال پچپن یا ساٹھ ہزار کے وعدے ہوئے تھے جن میں سے صرف بیالیس ہزار روپیہ وصول ہوا۔ضرورت یہ ہے کہ اس دور کو ہم پہلے سے بھی زیادہ شاندار بنانے کی کوشش کریں۔اس دفعہ