خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 55 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 55

*1946 55 خطبات محمود تعلق رکھتا ہے اور کچھ حصہ خدا تعالیٰ کے ساتھ تعلق رکھتا ہے۔ہماری مثال تو ایسی ہی ہے جیسے کسی نے کاغذ کی ناؤ بنائی اور دریا میں چھوڑ دی۔اب یہ کاغذ کس حد تک پانی کے حملہ سے بچارہتا ہے اور کس طرح خدا تعالیٰ ہلکی ہلکی ہواؤں کو چلاتا اور کاغذ کی ناؤ کو پار اتار دیتا ہے۔یہ سارا کام اسی کا ہے ہمارے بس کی بات نہیں۔مثل مشہور ہے کہ کاغذ کی ناؤ آج نہ ڈوبی کل ڈوبے گی۔ہماری ناؤ بھی کاغذ کی ہے اور ہم اس کے متعلق یہی کہہ سکتے ہیں کہ یہ ناؤ آج نہ ڈوبی کل ڈوبے گی۔آگے یہ خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے کہ وہ اسے دوسرے کنارے پر سلامتی کے ساتھ پہنچا دے۔اور یہ محض اس کے فضل سے ہی ہو سکتا ہے ہماری کوششوں سے نہیں۔پس ہمیں خدا تعالیٰ کے حضور دعائیں اور التجائیں کرنی چاہئیں کہ وہ اس ناؤ کو سلامتی کے ساتھ دوسرے کنارے پر پہنچا دے۔جہاں تک انسانی تدابیر اور کوششوں کا سوال ہے کاغذ کی ناؤ کا دوسرے کنارے پر جانا تو الگ رہاوہ اپنے کنارہ سے چلے بغیر ہی ڈوب جایا کرتی ہے۔ایک بہت بڑا کام ہمارے سپر دہے اور ہمیں کبھی بھی اس سے غافل نہیں ہو نا چاہئے۔دنیا بھر کے دلوں کو بدل ڈالنا معمولی بات نہیں۔در حقیقت زمین و آسمان کو پیدا کرنا آسان ہے مگر دنیا کے قلوب کو بدل ڈالنا آسان بات نہیں۔میں نے یہ بات یو نہی نہیں کہی۔مجھ سے پہلے بزرگوں نے بھی یہ بات کہی ہے۔چنانچہ حضرت عمر نے ایک دفعہ فرمایا۔اگر تمہیں کوئی شخص کہے کہ احد پہاڑ اپنی جگہ سے ہل گیا ہے تو مان لینا لیکن اگر کوئی شخص یہ کہے کہ فلاں شخص کی طبیعت بدل گئی ہے تو نہ ماننا۔گویا حضرت عمرؓ نے ایک آدمی کی طبیعت کے بدل جانے کو ایک پہاڑ کے ہل جانے سے زیادہ مشکل قرار دیا ہے اور میں نے تو ساری دنیا کے قلوب کو بدلنے کی اہمیت بتائی ہے۔پس جو نسبت میں نے آسمان اور زمین کی ساری دنیا کے قلوب سے لگائی ہے وہ غلط نہیں ہے۔واقع یہی ہے کہ قلوب کو بدلنا کوئی معمولی بات نہیں۔ہمارا چند پیسے چندوں میں دے دینا یا ہمارے چند نوجوانوں کا زندگی وقف کر دینا محض ایسا ہی ہے جیسے لہو لگا کر شہیدوں میں داخل ہو جانا۔قلوب جب بھی بدلتے ہیں آسمانی تقدیر کے ساتھ بدلتے ہیں۔ہم دیکھتے ہیں کہ بعض معقول باتیں ہوتی ہیں لیکن ضدی طبائع کے ساتھ ٹکر ا ٹکرا کر پاش پاش ہو جاتی ہیں اور بعض غیر معقول باتیں ہوتی ہیں لیکن وہ اس طرح اثر کرتی چلی جاتی ہیں جس طرح