خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 618 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 618

*1946 618 خطبات محمود اُنہیں حدیثوں میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی آمد کی خبر بھی بیان ہوئی ہے۔اگر تم ان حدیثوں کے باقی حصوں کو صحیح مانتے ہو تو انہیں حدیثوں کے اس حصہ کو جو مسیح موعود (علیہ الصلوۃ والسلام) کے متعلق ہے۔ماننے میں تمہیں کیوں انکار ہے ؟ کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ یہ حدیثیں راویوں نے اپنے پاس سے ہی گھڑ کر بیان کر دیں اور دراصل رسول کریم صلی الی یکم نے یہ خبریں بیان نہیں فرمائی تھیں؟ مگر کیا یہ محمد رسول اللہ صلی الم کی ہتک نہیں کہ محمد رسول اللہ صلى ا م جو خدا تعالیٰ کے رسول تھے انہوں نے تو قیامت تک کے لئے غیب کی کوئی خبر نہ دی لیکن بعض جھوٹوں اور کذابوں نے غیب کی خبریں اس قدر بیان کر دیں جو نہایت عظیم الشان طور پر پوری ہوئیں؟ کیا یہ کہنے سے ان کو زک نہ پہنچے گی؟ اس سے یا تو وہ مانیں گے کہ محمد رسول اللہ صلى الم کو نَعُوذُ بِاللہ ذرا بھی علم غیب نہ تھا اور یا مانیں گے کہ یہ ساری کی ساری حدیثیں سچی ہیں۔کیا وہ یہ تسلیم کر سکتے ہیں کہ یہ خبریں جھوٹی ہیں؟ ہر گز نہیں۔اگر وہ یہ نہیں تسلیم کر سکتے تو انہیں ماننا پڑے گا کہ یہ حدیثیں صحیح ہیں۔پس جب وہ مان جائیں کہ یہ حدیثیں صحیح ہیں تو ان سے پوچھو کہ مسیح موعود کہاں ہے؟ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ فرماتے ہیں۔یہ دونوں باتیں ایک ہی وقت میں پوری ہوں گی اور جب باقی تمام باتیں پوری ہو چکی ہیں تو مسیح والی خبر بھی ضرور پوری ہونی چاہئے تھی۔اس مسئلہ پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ساری دنیا کو چیلنج دیا تھا کہ اگر میں جھوٹا ہوں تو تم سچے مسیح کو لاؤ ، کہاں ہے؟ کیونکہ یہ زمانہ مسیح موعود کا ہے۔اس زمانے کی اور مسیح موعود کے زمانے کی تمام علامات پوری ہو چکی ہیں۔اور یہ دونوں باتیں ایک ہی وقت میں پوری ہونی ضروری ہیں مگر آجکل ہماری جماعت کے لوگوں کا یہ رویہ ہے کہ جدھر دشمن ان کو کھینچتے ہیں یہ اُدھر ہی کو بھاگتے ہیں۔حالانکہ تمہیں چاہئے کہ انہیں اس میدان میں کھینچ کر لاؤ جس میں وہ شکست کھا چکے ہیں اور ان سے کہو کہ آؤ پہلے اس مسئلہ پر بحث کر لیں پھر ہم آگے چلیں گے۔تم نے کفر کے فتوے لگائے ہوئے ہیں ہم تمہیں ہر گز نہیں چھوڑیں گے۔اس طرح وہ اپنی غلطی کو ماننے کے لئے مجبور ہو جائیں گے۔اور اگر وہ اپنی غلطی کا اقرار کر لیں گے تو اس کے یہ معنے ہوں گے کہ وہ خود اپنے ہاتھوں سے احمدیت کی فتح کا جھنڈا گاڑ دیں گے۔پس ہماری جماعت کو تبلیغ کا یہ صحیح طریقہ کبھی نہیں چھوڑنا چاہئے ورنہ دشمن کا شکار ہو