خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 612 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 612

*1946 612 خطبات محمود تاریخ پوچھ لیا کرتے تھے کہ آج کیا تاریخ ہے اور چاند کی چودہ کب ہو گی یا فلاں تاریخ کتنے دنوں کے بعد آئے گی؟ اس مولوی نے مسجد کے ایک کونے میں ایک گھڑارکھا ہوا تھا اور اُس کے پاس ہی اس نے تھیں کنکر رکھے ہوئے تھے۔جب نیا چاند چڑھتاوہ لوگوں سے پوچھ کر کہ چاند آج چڑھا ہے ایک کنکر گھڑے میں ڈال دیتا تھا اور اس کے بعد وہ روزانہ ایک کنکر ڈال دیا کر تا تھا۔اور جب کوئی تاریخ پوچھنے آتا تو وہ گھڑے میں سے کنکر گن کر بتادیا کر تا تھا۔ایک دن جب کسی شخص نے تاریخ پوچھی تو حافظ صاحب مسجد کے اندر چلے گئے اور تھوڑی دیر گزرنے کے بعد واپس آکر اُس کو تاریخ بتائی۔اتفاقاً اُس دن کچھ لڑکے بھی یہ بات دیکھ رہے تھے۔لڑکے شریر ہوتے ہیں انہوں نے سوچا کہ جب کوئی حافظ صاحب سے تاریخ پوچھتا ہے تو بجائے اُسی وقت بتا دینے کے اندر جاتے ہیں اور تھوڑی دیر کے بعد واپس آکر تاریخ بتاتے ہیں دیکھیں تو سہی وہ اندر کیوں جاتے ہیں۔چنانچہ وہ اندر چلے گئے اور دیکھا کہ مسجد کے کونے میں ایک گھڑا رکھا ہے اور کچھ کنکر اس کے اندر پڑے ہیں اور کچھ پاس ہی رکھے ہوئے ہیں۔اُنہوں نے سمجھ لیا کہ یہی کنکر گن کر حافظ صاحب تاریخ بتاتے ہیں۔ان لڑکوں کو شرارت سوجھی اور اپنی جھولیوں میں کنکر بھر کر لے آئے اور دبے پاؤں مسجد کے اندر جاکر گھڑے کو کنکروں سے بھر دیا۔ایک دن کسی عورت نے آکر حافظ صاحب سے تاریخ پوچھی تو وہ اٹھ کر تاریخ گننے کے لئے اندر چلے گئے۔اب بجائے اس کے کہ وہ گھڑے کو کنکروں سے بھرا ہو دیکھ کر اس شرارت کو سمجھ جاتے انہوں نے کنکروں کو گننا شروع کر دیا۔تھوڑی دیر کے بعد اس عورت نے باہر سے آواز دی کہ جلدی تاریخ بتاؤ مگر کنکر کوئی تھوڑے سے تو نہ تھے کہ اتنی جلدی گنے جا سکتے وہ گنتے چلے گئے۔اتنے میں باہر سے پھر شور ہوا کہ تاریخ کیوں نہیں بتاتے ؟ اندر کیا کر رہے ہو ؟ مگر حافظ صاحب کنکر گننے میں لگے رہے۔بھلا وہ گن چکیں تو تاریخ بتائیں بغیر گنے کے کیسے بتائیں۔جب عورت نے دو چار دفعہ آوازیں دیں اور حافظ صاحب نے تاریخ نہ بتائی تو اس نے کہا یہ کیا محول ہے میں اتنی دیر سے باہر کھڑی آواز میں دے رہی ہوں۔جلدی تاریخ بتاؤ۔اتنے میں حافظ صاحب کئی ہزار کی تعداد تک کنکر گن چکے تھے جب انہوں نے دیکھا کہ وہ عورت ناراض ہو رہی ہے تو وہ گھبرا کر باہر نکلے اور کہا آج کوئی دو سوویں تاریخ ہے۔جب