خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 546 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 546

*1946 546 خطبات محمود اور احمدیت کی خدمت سر انجام دیں گے۔ان تمام مطالبات کا مقصد محض جماعت کے اندر اخلاق حسنہ کو قائم کرنا تھا اور ان مطالبات کا مقصد محض یہ تھا کہ جماعت اپنے حالات کے مطابق خرچ کرنے کی عادت ڈالے اور تباہی کے گڑھے میں گرنے سے محفوظ رہے۔اسی طرح امراء اور غرباء میں جو تفاوت پایا جاتا ہے وہ روز بروز کم ہو تا چلا جائے۔سینما دیکھنے کی جو ممانعت کی گئی تھی وہ بھی اسی کے ماتحت آجاتی ہے کیونکہ اس سے روپیہ الگ ضائع ہو تا ہے اور اخلاق الگ تباہ ہوتے ہیں۔جن دنوں یہ تحریک ہوئی ہماری جماعت نے خدا تعالیٰ کے فضل سے بڑی شدت سے اس پر عمل کیا۔اور میں نے دیکھا کہ غیروں پر اس کا نمایاں اثر تھا۔چنانچہ جہاں سے بھی رپورٹیں آتی تھیں یہی آتی تھیں کہ لوگ اس تحریک کے اصول کو دیکھ کر حیران ہوتے ہیں اور وہ بے اختیار یہ کہنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ کتنے اعلیٰ درجہ کے قواعد تجویز کئے گئے ہیں۔مگر باوجود اس کے کہ لوگوں نے تحریک جدید کے اصول کی تعریف کی، انہوں نے ان قواعد کی نقل کرنے کی کوشش نہ کی۔اب مسلمانوں پر بھی ایک مصیبت کا دور آیا ہے تو میں دیکھ رہا ہوں کہ وہی اصول جو تحریک جدید کے ذریعے میں نے پیش کئے تھے آج مسلمان انہی کی نقل کرنے اور ان کو اپنے اندر جاری کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔جس طرح 1934ء میں ہمارا اور احرار کا مقابلہ ہوا تھا اسی طرح اب مسلمانوں اور اہل ہنود کا مقابلہ ہے اور اس کا نتیجہ یہ نکل رہا ہے کہ جیسے احرار کے مقابلہ میں میں نے تحریک کی تھی ویسی ہی تحریک گو مردوں میں تو نہیں مگر مسلمان عورتوں میں عام طور پر جاری ہو چکی ہے اور تمام پنجاب میں عورتوں کی طرف سے تقریریں کی جارہی ہیں کہ انہیں اپنے اخراجات میں کفایت سے کام لینا چاہئے۔یہ تحریک دراصل انہی دنوں شروع ہو گئی تھی جب میں ڈلہوزی میں تھا اور مجھے معلوم ہوا کہ عورتوں میں یہ تحریک بڑے زور سے جاری ہے کہ مسلمانوں سے سودا خریدنا چاہئے۔اپنے کپڑوں اور زیورات میں سادگی اختیار کرنی چاہئے ، ایک کھانا کھانا چاہئے اور اس طرح اپنی مالی اور تنظیمی قوت کو مضبوط کرنا چاہئے۔ایک عورتوں کی مجلس میں اس کا ذکر ہوا تو میری ایک بیوی جو اس میں شامل تھیں انہوں نے کہا کہ تم اپنے پروگرام میں یہ بات بھی شامل کرو کہ ہم سینما نہیں دیکھیں گی۔شادی پر تو دس پندرہ سال کے بعد روپیہ خرچ کرنا پڑتا ہے لیکن سینما