خطبات محمود (جلد 27) — Page 496
*1946 496 خطبات محمود کرے گا بلکہ ہمارے ذریعہ سے ہو گا۔اگر ہر قوم کو اور ہر جماعت کو ، ہر زبان بولنے والے کو، ہر ملک کے رہنے والے کو تبلیغ نہیں پہنچے گی تو ہماری اس شستی اور بے ایمانی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ پر الزام عائد ہو گا۔لِيَكُونَ لِلْعَلَمِيْنَ نَذِيرًا کی ذمہ داری ہماری جماعت پر پڑتی ہے۔ہماری جماعت کا فرض ہے کہ وہ ہر قوم اور ہر مذہب کو مخاطب کرے اور ہر ایک تک اِس نور کو پہنچانے کی کوشش کرے۔ماننا یا نہ ماننا ان کا کام ہے۔مہمان کی خاطر تواضع کرنا مہمان نواز کا کام ہے۔اگر باوجود تمام اشیاء کے موجود ہونے کے مہمان خود نہیں کھاتا تو مہمان نواز کا قصور نہیں۔اسی طرح ہمارا فرض ہے کہ ہم ہر ایک آدمی تک اس آواز کو پہنچادیں۔مانا یا نہ ماننا اُن کا کام ہے۔بہت سے لوگ ایسے بھی ہیں جو کہتے ہیں کہ کیا ہم خدا کے بندے نہیں ہمیں کیوں تبلیغ نہیں کی جاتی اور ہم تک کیوں خدائی آواز نہیں پہنچائی جاتی؟ بلکہ بعض جگہ تو لوگ اصرار کرتے ہیں کہ ہمیں مبلغ بھیجے جائیں۔لیکن ہم مبلغین کی کمی کی وجہ سے ان کی اس خواہش کو پورا نہیں کر سکتے۔مغربی افریقہ میں ہی ایک نواب متواتر سات سال تک ہمارے مبلغین کو لکھتا رہا ہے کہ میرے علاقہ میں تبلیغ کی جائے اور یہاں مشن قائم کیا جائے۔لیکن ہمارا مبلغ اسے یہ جواب دیتارہا کہ ہمارے پاس ابھی آدمی نہیں۔اسی حالت میں وہ نواب فوت ہو گیا اور ہم اس کے پاس آدمی نہ بھجوا سکے۔اب اگر اللہ تعالیٰ اسے پوچھے گا کہ تم احمدی کیوں نہ ہوئے ؟ تو وہ یہی جواب دے گا کہ اے خدا! میں نے تو تیرے بندوں سے کہا تھا کہ وہ مجھے تیر اکلام سنائیں لیکن انہوں نے مجھے اس سے محروم رکھا ہے۔اس میں شبہ نہیں کہ جب وہ خدا تعالیٰ کے سامنے جائے گا تو چونکہ اسے اللہ تعالیٰ کا کلام نہیں پہنچا اور اسے اس کی خواہش تھی اس لئے وہ تو یقیناً جنت میں جائے گا لیکن جن لوگوں نے اسے یہ پیغام پہنچانے میں سستی اور غفلت کی اُن کے متعلق میں نہیں کہہ سکتا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے سامنے کس حالت میں کھڑے ہوں گے۔پس جماعت کو سوچنا چاہئے کہ ہمارے ذمہ کتنا بڑا کام ہے۔کیا ہم دنیا میں اپنے فرض کو ادانہ کرنے کی وجہ سے بادی بننے کی بجائے مجرم تو نہیں بن رہے ؟ اور بجائے اس کے کہ ہم لوگوں کو ہدایت کے دستر خوان پر جمع کریں، اس دستر خوان سے لوگوں کو دور کرنے والے تو نہیں بن رہے؟