خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 490 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 490

*1946 490 خطبات محمود نمونہ بنتا ہے اور انہیں ان سچائیوں پر اور ان صداقتوں پر عمل کر کے دکھا دیتا ہے۔جو لوگ اس لئے جھوٹ بول رہے تھے کہ اُن کے خیال میں سچ بولا ہی نہیں جاسکتا اور جو لوگ اس لئے ظلم کر رہے تھے کہ رحم کیا ہی نہیں جاسکتا اُن کی آنکھیں کھل جاتی ہیں اور وہ دیکھتے ہیں کہ یہ بھی ہمارے جیسا ایک انسان ہے۔یہ سچ بولتا ہے، کسی پر ظلم نہیں کرتا، کسی کا حق نہیں مارتا اور ہر قسم کی برائیوں سے اجتناب کرتا ہے۔تو ان کے حوصلے بلند ہو جاتے ہیں اور ان کی ہمتیں بندھ جاتی ہیں اور وہ عزم صمیم سے نیکیوں پر عمل کرنے لگ جاتے ہیں۔پس نبی کی بعثت کی یہ دو غرضیں ہوتی ہیں۔اول یہ کہ اُن کے ذریعے تعلیم کی تکمیل ہوتی ہے۔بے شک لوگ بھی نبی کی بعثت سے پہلے یہی کہتے ہیں کہ سچ بولنا چاہئے مگر سچ کی تعریف بہت ناقص کرتے ہیں۔وہ یہی کہتے ہیں کہ کسی پر ظلم نہیں کرنا چاہئے لیکن ظلم کی تعریف غلط کرتے ہیں جس سے ظلم بند نہیں ہو تا۔اس کے علاوہ ان کا عمل ان کی تعریف سے بھی ناقص ہوتا ہے۔جس چیز کو وہ سچ کہتے ہیں اُس پر بھی عمل نہیں کرتے۔اور جس امر کو وہ ظلم کہتے ہیں اس سے بھی نہیں بچتے۔غرض لوگ جس تعلیم کو مانتے ہیں اسے بھی نا قابل عمل قرار دیتے ہیں۔جب نبی آتا ہے تو وہ اس پر عمل کر کے دکھا دیتا ہے اور اس طرح نمونہ پیش کر کے لوگوں کے حوصلے بلند کر دیتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تَبْرَكَ الَّذِي نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلَى عَبْدِهِ کہ بہت برکت والا وہ خدا ہے جس نے ایسی تعلیم اُتاری اور جس نے ایسا کلام بھیجا جو کہ تمام قسم کی باریکیاں بیان کرتا ہے اور حق و باطل میں امتیاز کر کے دکھا دیتا ہے۔اور پھر برکت والا ہے وہ خدا جس نے وہ برکت کسی ایسے انسان کے سپرد نہیں کی جو بد عمل اور بد کردار ہو اور بجائے دین کی طرف لانے کے دین سے بیگانہ کرنے والا ہو۔بلکہ اس نے وہ کتاب ایسے شخص کو دی جس نے اپنی ذات اور اپنی دنیوی زندگی پر موت وارد کی اور اللہ تعالیٰ کی تمام صفات کو اپنے نفس کے اندر داخل کر لیا اور اپنے پاک نمونہ سے دنیا کو نیکی کی طرف کھینچ لایا۔پھر فرماتا ہے۔برکت والا وہ خدا ہے جو یہ فرماتا ہے لِيَكُونَ لِلْعَلَمِيْنَ نَذِيرًا۔لِيَكُونَ میں ضمیر استعمال کی گئی ہے اور فاعل ظاہر نہیں کیا۔اس لحاظ سے ضمیر سے پہلے جتنے وجود گزرے ہیں اُن سب کی طرف پھر سکتی ہے۔لِيَكُونَ سے پہلے اللہ تعالیٰ کا بھی ذکر ہے