خطبات محمود (جلد 27) — Page 489
*1946 489 خطبات محمود میں انصاف کرنے کے لئے کھڑے ہوئے ہیں۔بالشوزم والے بھی یہی کہتے ہیں کہ ہم ہر انسان سے انصاف کرانے کے لئے کھڑے ہوئے ہیں اور مغربی ڈیما کریسی بھی یہی کہتی ہے کہ ہم خدمت خلق کے لئے مختلف علاقوں پر قابض ہیں۔جیسا کہ وہ کہتے ہیں کہ ہندوستان کا بوجھ ہم نے اپنے کندھوں پر اٹھایا ہوا ہے۔پس جب دنیا کے لوگ ہمیشہ ان سچائیوں کو مانتے ہیں تو پھر نبی کے آنے کی کیا ضرورت ہے؟ نبی کے آنے کی دو غرضیں ہوتی ہیں۔اول یہ کہ موٹی سچائیوں اور بار یک سچائیوں میں فرق کر کے دکھاتے ہیں۔دوسرے اپنے نمونہ سے ان کو قابل عمل ثابت کرتے ہیں۔لوگ یہ تو کہتے ہیں کہ ظلم نہ کرو لیکن جب ظلم کی تعریف میں پڑتے ہیں تو ہر فعل کو اپنے لئے جائز قرار دے لیتے ہیں۔لوگ منہ سے یہ تو کہتے ہیں کہ جھوٹ نہ بولو لیکن باوجود اس کے جھوٹ بولتے ہیں۔لوگ یہ تو کہتے ہیں کہ کسی کا مال غصب نہ کرو لیکن باوجود کہنے کے دوسروں کا مال چھین کر کھاتے ہیں۔ان کے نزدیک ان گناہوں کی تعریفیں بہت محدود ہو جاتی ہیں۔نبی آکر ان اعمال کی تعریفوں کو مکمل کرتے ہیں اور صرف اس تعلیم کو دہرانے کے لئے نہیں آتے بلکہ اس پر عمل کرانے کے لئے آتے ہیں۔باوجود اس کے کہ لوگ جانتے ہیں کہ سچ بولنا چاہئے پھر بھی جھوٹ بولتے ہیں۔او را گر اُن کو توجہ دلائی جائے کہ آپ جھوٹ کیوں بولتے ہیں ؟ تو کہتے ہیں سچ بولنے سے اس دنیا میں کام نہیں چلتا۔اور باوجود اس کے کہ لوگ جانتے ہیں کہ دھوکا بازی ایک بُری چیز ہے پھر بھی دھوکا بازی کرتے ہیں۔اور اگر ان سے کہا جائے کہ تم دھوکا بازی کیوں کرتے ہو ؟ تو وہ کہتے ہیں اِس کے بغیر اس دنیا میں گزارہ نہیں۔دنیا کے لوگ مال لوٹتے ہیں۔اگر ان سے کہا جائے کہ تم لوگوں کے مال کیوں لُوٹتے ہو؟ لوگوں پر کیوں ظلم کرتے ہو ؟ تو وہ جواب دیتے ہیں اس کے بغیر دنیا میں کام چل ہی نہیں سکتا۔دنیا میں ہر شخص بھیڑیا ہے۔بھیڑ یا بغیر بکری پر ظلم کئے رہ نہیں سکتا۔اگر وہ بکری کا گوشت نہ کھائے تو بہت جلد مرجائے۔ان باتوں کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ نئی نسلیں یہ خیال کرنے لگ جاتی ہیں کہ یہ سب کہنے کی باتیں ہیں ان پر عمل نہیں کیا جا سکتا۔دنیا کے لوگ باوجود یہ سمجھنے کے کہ بیچ اچھی چیز ہے ساتھ ہی یہ کہتے ہیں کہ سچ بولا نہیں جاسکتا۔وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ رحم اچھی چیز ہے لیکن ساتھ ہی وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ رحم پر عمل کیا نہیں جاسکتا۔لیکن نبی آکر دنیا کے لئے