خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 460 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 460

*1946 460 خطبات محمود حقیقت بھی یہی ہے کہ کونسی چیز ہے جو انسان اپنے پاس سے قربان کرتا ہے؟ کونسی چیز ہے جو انسان نے خود بنائی ہے ؟ انسان اللہ تعالیٰ کے رستے میں جو کچھ قربان کرتا ہے وہ سب اللہ تعالیٰ کی عطا ہو تا ہے۔اور انسان جب جان دیتا ہے تو اس کی بہت سی چیزیں دنیا میں باقی رہ جاتی ہیں جو اس نے اللہ تعالیٰ کی راہ میں قربان نہیں کی ہوتیں۔میرے خیال میں کوئی انسان ایسا نہیں جو ہر ایک چیز اللہ تعالیٰ کے رستے میں قربان کر جائے۔بہت سے لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کے رستے میں جانیں قربان کرتے ہیں تو ان کا مال پیچھے باقی ہوتا ہے جس سے اُن کی بیویاں اور بچے گزارہ کرتے ہیں۔اور اگر بیوی بچے بھی قربان کر جاتے ہیں تو پیچھے رشتہ دار ہوتے ہیں جو اُن کے مال و دولت سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور ایسی مثالیں کہ جان دیتے وقت ان کی کوئی چیز باقی نہ ہو بہت کم ہیں بلکہ چند ہیں۔صحابہ میں سے شہید ہونے والوں میں سے حضرت عثمان بن مظعونؓ اور حضرت حمزہ ایسے تھے کہ جنہوں نے جان کی قربانی کی اور پیچھے کوئی چیز نہیں چھوڑی۔لیکن ایک چیز پھر بھی باقی رہ گئی اور وہ چیز ایسی تھی جو نہ مٹنے والی تھی۔وہ ان کی نیک نامی اور نیک شہرت ہے۔بے شک حضرت عثمان بن مظعونؓ اور حضرت حمزہ نے بیوی بچے اور جائیداد پیچھے نہیں چھوڑی اور سب کچھ اللہ تعالیٰ کے رستے میں قربان کر دیا۔لیکن وہ عزت اور وہ نیک نام اور وہ دعائیں جو ان کو عالم اسلام سے ملتی ہیں وہ باقی ہیں اور ان چیزوں کے مقابلہ میں ان کی قربانیوں کی کیا حیثیت باقی رہ جاتی ہے۔کوئی سچا مسلمان ایسا نہیں جو عثمان بن مظعون کے واقعات کو پڑھ کر آنکھوں سے آنسو نہ بہائے اور کوئی سچا مسلمان ایسا نہیں جو ان واقعات کو پڑھ کر دعا کئے بغیر آگے گزرے۔یہ کتنا بڑا انعام ہے۔ہم یہ مان لیتے ہیں کہ عثمان کی جائیداد ہزاروں کی نہیں بلکہ لاکھوں کی ہو گی۔لیکن جتنی دعائیں عثمان بن مظعون کے لئے کی جاتی ہیں اگر آج مسلمانوں کو یہ حقیقت معلوم ہو جائے کہ عثمان کو کیا کچھ ملا ہے تو وہ کروڑوں کروڑ کی جائیدادیں اسلام کے لئے قربان کر دیں۔انسان اولا د کس لئے مانگتا ہے ؟ اسی لئے کہ اس کا نام دنیا میں باقی رہے۔لیکن کتنے لوگ ہیں جن کے نام ان کی اولادوں کی وجہ سے باقی ہیں۔آج سے ہزار سال پہلے کے کتنے لوگ ہیں جن کے نام ان کی اولادوں کی وجہ سے باقی ہیں۔ہزار سال میں اربوں ارب بلکہ