خطبات محمود (جلد 27) — Page 435
*1946 435 خطبات محمود سة نظر آتے ہیں۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ میں جماعت کے دوستوں کو جماعت وار تبلیغ کے متعلق ہدایات دے کر تبلیغ کے لئے رخصت کر رہا ہوں۔ایک وفد میرے سامنے آیا ہے ایسا معلوم ہوتا ہے میں اُن کو ہندوؤں کی طرف بھیج رہا ہوں۔مجھے یاد ہے اس وقت میں جوش کے ساتھ ان کو مخاطب کر کے کہتا ہوں کہ جاؤ یہ علاقے ہندوؤں کے ہیں ان میں پھیل جاؤ اور اُن کو کہو کہ جس او تار کے آنے کی خبر تمہاری کتب میں ہے وہ او تار آچکا ہے تم اُسے مان لو۔اگر نہیں مانو گے تو تم اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کے مورد بن جاؤ گے۔تم اب اللہ تعالیٰ کو کیا جواب دو گے جبکہ وہ بھی جو اس او تار کا مثیل ہے آگیا ہے اور تمہیں مخاطب کر کے کہہ رہا ہے کہ تم اپنی زندگی برباد نہ کرو۔پھر ان سے یہ بھی کہو کہ آنے والا او تار اور اس کا مثیل بھی اپنے آپ کو محمد رسول اللہ صلی الیکم کا خادم کہتے ہیں۔پس تم کو محمد رسول اللہ پر ایمان لا کر مسلمان ہونا پڑے گا۔پھر میں اس وفد میں جانے والے دوستوں کو مخاطب کر کے کہتا ہوں کہ اب تم جاؤ اور اس تمام علاقے میں چھا جاؤ۔خواب میں میں دیکھتا ہوں کہ وہ لوگ اٹھ کر چلے گئے ہیں اسی طرح میرے پاس مبلغوں کا ایک تانتابندھا ہوا ہے جن کو میں مختلف قوموں کی طرف بھیج رہا ہوں۔میں سمجھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے اس رویا میں اس طرف اشارہ فرمایا ہے کہ اگر جماعت جلدی کامیاب ہونا چاہتی ہے تو اسے تبلیغ کی طرف زیادہ سے زیادہ متوجہ ہونا چاہئے۔معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہندوؤں میں تبلیغ کو موثر بنانے کے رستے کھولے گا اور ہندوؤں میں یہ تجسس پیدا ہو گا کہ وہ اسلام کی طرف متوجہ ہوں۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک الہام ہے جو کہ ہندوؤں کے متعلق ہے اے رڈھر گوپال تیری مہما گیتا میں لکھی ہے۔4 اسی طرح آپ کا ایک اور الہام ہے ”جے سنگھ بہادر 5 یہ عجیب بات ہے کہ ہند و شروع شروع میں ”بندے ماترم “ کا نعرہ لگاتے تھے۔اب انہوں نے ”بندے ماترم “ کا نعرہ چھوڑ دیا ہے اور اب ” جے ہند کا نعرہ لگاتے ہیں۔جاپان سے لڑائی کے دوران میں سبھاش چندر بوس 6 نے جو آزاد ہند فوج کھڑی کی۔پہلے اس نے ” جے ہند نعرہ لگانا شروع کیا۔اس کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ آہستہ آہستہ ہندوؤں نے ”بندے ماترم “ کا نعرہ چھوڑ دیا ہے اور اب ” جے ہند“ کا نعرہ لگاتے ہیں۔معلوم ہو تا ہے کہ اس میں اللہ تعالیٰ نے یہ حکمت رکھی ہے کہ یہ لوگ ” جے “ کے نعرے کے عادی وو