خطبات محمود (جلد 27) — Page 324
*1946 324 خطبات محمود پہنانا نہیں جانتے اور وہ اس بات کے عادی ہو گئے ہیں کہ ان کا کام صرف دھمکی پر ہی ختم ہو جاتا ہے۔لیکن اس کے مقابل پر غیر قومیں جب دھمکی دیتی ہیں تو وہ حقیقی دھمکی ہوتی ہے صرف منہ کی لاف و گزاف نہیں ہوتی۔لیکن مسلمان یہ سمجھتے ہیں کہ جیسے ہماری دھمکیاں عمل سے خالی ہوتی ہیں اُسی طرح غیر قوموں کی دھمکیاں بھی عمل سے خالی ہیں حالانکہ واقعات بتاتے ہیں کہ مسلمانوں کو چھوڑ کر باقی تمام قوموں کی دھمکیاں خالی دھمکیاں نہیں ہو تیں بلکہ وہ اس کے ساتھ ایسے سامان بھی بہم پہنچاتی ہیں جن سے وہ اُن کو عملی جامہ پہنا سکیں۔چنانچہ ان ایام میں بعض مقامات سے متواتر اطلاعات آرہی ہیں کہ بعض قو میں خاص طور پر فساد کے لئے تیاریاں کر رہی ہیں اور جو لوگ لائسنس حاصل کر سکتے ہیں بندوقوں کے لائسنس لینے کی کوشش کر رہے ہیں اور جن کے پاس لائسنس ہیں وہ زیادہ کارتوس اور بارود جمع کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔اور جو لائسنس حاصل نہیں کر سکتے وہ تلواریں وغیرہ جمع کر رہے ہیں۔اور جو زیادہ دلیر اور فساد کرنے والے ہیں وہ غیر آئینی طور پر نیزے، بندوقیں اور رائفلیں وغیرہ جمع کر رہے ہیں۔یا گورنمنٹ نے ان کے لئے کارتوسوں کی جو تعداد مقرر کی ہے وہ اس سے بہت زیادہ جمع کر رہے ہیں اور چونکہ اس قسم کی اطلاعات ہمیں کثرت سے آرہی ہیں اس لئے میں سمجھتا ہوں کہ یہ دھمکیاں صرف منہ کی باتیں نہیں بلکہ ان کو عملی جامہ پہنانے کے لئے بہت بڑی جد وجہد کی جارہی ہے۔جو لوگ قانون شکن ہوتے ہیں اُن کے لئے ایسے حالات اور بھی زیادہ جرات کا موجب ہوتے ہیں۔پچھلے سالوں میں جبکہ لوگوں کا خیال یہ تھا کہ انگریزوں کی حکومت ختم ہونے والی ہے اور اُن کی جگہ جرمن آنے والے ہیں اُس وقت بھی قوموں نے بہت شدت کے ساتھ ایک دوسرے کے خلاف تیاریاں کیں۔یہاں تک کہ قادیان کے قریب کے ایک سکھ نے ہمارے ناظر اعلیٰ (اُس وقت کے) چودھری فتح محمد صاحب سے کہا کہ آپ کے پاس جو بندوق ہے وہ آپ مجھے دے دیں اور جو قیمت آپ چاہیں مجھ سے لے لیں۔گویا اس کے نزدیک جماعت احمدیہ اور اس کا چیف سیکرٹری اس قدر غافل ہیں کہ خود حفاظتی کا جائز سامان جو اس کے پاس ہے وہ ایک سو یا دو سو روپے کی خاطر اپنے ہاتھ سے ضائع کر دے گا۔اس شخص نے کتنی جرات اور دلیری سے کام لیا کہ اُس نے اس بات کی پروا تک نہ کی کہ وہ ایک ایسے آدمی