خطبات محمود (جلد 27) — Page 295
*1946 295 خطبات محمود میں سے بعض کے لئے خدا نے مجھے نذیر بناکر بھیجا ہے کیونکہ میرے ذریعہ سے تم پر حجت تمام ہو گئی ہے اور قیامت کے دن تم خدا تعالیٰ کے سامنے کوئی عذر پیش نہیں کر سکتے۔دن بدن سلسلہ کے مقاصد قریب سے قریب تر آتے جارہے ہیں اور وہ دن اب بالکل قریب آپہنچا ہے جب دنیا دیکھے گی کہ احمدیت اپنے مقصد میں کامیاب ہوئی ہے یا نہیں۔شیطان بڑی بے تابی سے اس دن کا انتظار کر رہا ہے جب احمد یہ جماعت اس کے ساتھیوں کے مقابلہ کی تاب نہ لا کر میدانِ جنگ سے پیٹھ موڑ کر بھاگ جائے گی۔اور فرشتے بھی بڑی بے تابی سے اس دن کا انتظار کر رہے ہیں جب شیطان کو شکست فاش دے کر تم واپس لوٹو گے۔تمہارے قدم میں کوئی تزلزل پیدا نہ ہو گا، تمہاری قوتوں میں اضمحلال رونما نہ ہو گا اور تم دشمن کو میدان سے ہمیشہ کے لئے بھگا دو گے۔یہ دونوں الگ الگ امیدیں لگائے بیٹھے ہیں اور دونوں تمہارے کام کے نتائج کے منتظر ہیں۔یہ تمہارے اختیار میں ہے کہ تم شیطان کو مایوس کرو یا فرشتوں کو۔تمہیں دیکھنا چاہئے کہ آیا تمہارے کاموں کی وجہ سے شیطان معقول طور پر یہ امید کر سکتا ہے کہ تم میدان سے بھاگ نکلو گے؟ یا تمہاری تیاریاں فرشتوں کو جائز طور پر یہ امید دلانے کا موجب بن سکتی ہیں کہ تم خدا تعالیٰ کے جانباز اور بہادر سپاہی ثابت ہو گے اور اسلام کی فتح کا جھنڈا لہراتے ہوئے واپس لوٹو گے ؟ دونوں میں سے کسی ایک چیز کا فیصلہ تم کر سکتے ہو۔میں نہیں کر سکتا۔خدا تعالیٰ ہر وقت کر سکتا ہے کیونکہ وہ دلوں کے حالات کو جاننے والا ہے۔اور باقی دنیا کام کے بعد کوئی نتیجہ نکال سکتی ہے پہلے نہیں۔لیکن خدا تعالیٰ کے بعد تمہیں بھی یہ طاقت حاصل ہے کہ تم اپنے حالات کا جائزہ لیتے ہوئے فیصلہ کرو کہ تمہارے کام شیطان کو امید دلانے والے ہیں یا فرشتوں کو امید دلانے والے ہیں۔تم اسلام کی فتح کا موجب بنو گے یا اسلام کی شکست کا موجب بنو گے۔کیونکہ تمام کام قلب سے تعلق رکھتے ہیں اور تم اپنے قلبی حالات کا جائزہ لے کر آسانی سے فیصلہ کر سکتے ہو کہ تم اس قسم کی تیاری کر رہے ہو جو اسلام کی فتح کا موجب ہو گی یا اس قسم کی تیاری کر رہے ہو جو اسلام کی شکست کا موجب ہو گی۔میں دیکھتا ہوں کہ کوئی ملک بھی تو ایسا نہیں جہاں ایک شور برپا نہیں اور جہاں احمدیت کے لئے آوازیں بلند نہیں ہو رہیں۔اسی ہفتہ میں متعدد جگہوں سے جو خطوط آئے ہیں