خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 18 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 18

*1946 18 خطبات محمود کے قابل نہ رہے تو ہم اس سے شہروں کی گلیوں میں لڑیں گے اور اگر گلیوں میں لڑنے کے قابل نہ رہے تو ہم گھروں کے دروازوں تک مقابلہ کریں گے اور اگر پھر بھی مقابلہ نہ کر سکے تو کشتیوں میں بیٹھ کر امریکہ چلے جائیں گے۔مگر اس سے جنگ کرنا ترک نہیں کریں گے۔ہمارا مقابلہ تو ایسے لوگوں سے ہے اور ہمیں ان کا مقابلہ کرنے کے لئے ایسے نوجوان دیئے جاتے ہیں جو کہتے تو یہ ہیں کہ ہم بھوکے رہیں گے ، کہتے تو یہ ہیں کہ ہم جنگلوں اور پہاڑوں اور ویرانوں میں جائیں گے ، کہتے تو یہ ہیں کہ ہم وطن سے بے وطن ہوں گے ، کہتے تو یہ ہیں کہ ہم اپنی ہر ایک عزیز چیز کو قربان کرنے کے لئے تیار رہیں گے لیکن جب ان کو کام پر لگایا جاتا ہے تو کوئی کہہ دیتا ہے کہ میرا چالیس روپے میں گزارہ نہیں ہو سکتا تھا اس لئے بھاگ آیا ہوں، کوئی کہہ دیتا ہے کہ میر اوہاں دل نہیں لگتا تھا اس لئے میں کام چھوڑنے پر مجبور ہوا۔اور ساتھ ہی لکھ دیتا ہے کہ سلسلہ میرے اس فعل پر بُرا نہ منائے اور میر اوقف قائم رکھا جائے۔جاتا تو وہ اپنے ماں باپ یا بیوی کی معیت میں وقت گزارنے کے لئے ہے کیونکہ وہ اداس ہو گیا تھا لیکن ساتھ ساتھ یہ بھی کہتا جاتا ہے کہ میر اوقف قائم رکھا جائے۔ایسے نوجوان ہیں جو ہمیں دیئے جاتے ہیں۔ان سے کسی نے کام کیا لینا ہے۔ہمیں تو ایسے آدمیوں کی ضرورت ہے کہ جہاں ان کو کھڑا کیا جائے وہ وہاں سے ایک قدم بھی نہ ہلیں سوائے اس کے کہ ان کی لاش ایک فٹ ہماری طرف گرے تو گرے لیکن زندہ انسان کا قدم ایک فٹ آگے پڑے پیچھے نہ آئے۔ہمیں تو ایسے آدمیوں کی ضرورت ہے۔اور یہی لوگ ہیں جو قوموں کی بنیاد کا کام دیتے ہیں۔اللہ تعالیٰ رسول کریم صلی نیلم کے صحابہ کے متعلق فرماتا ہے کہ ان میں سے ہر آدمی کفن بر دوش ہے مِنْهُم منْ قَضَى نَحْبَهُ وَمِنْهُمْ مَنْ يَنْتَظِرُ 5 کہ ان میں سے کچھ لوگوں نے اسلام کی راہ میں اپنی جانیں دے دی ہیں اور کچھ انتظار کر رہے ہیں۔یہ وقف ہے جو دنیا میں تغیر پیدا کیا کرتا ہے۔پس اساتذہ اور والدین کا فرض ہے کہ وہ بچوں کی پورے طور پر نگرانی کریں اور انہیں محنت کا عادی بنائیں۔نماز ، روزہ اور دیگر اسلامی احکام کا ان کو پابند کریں۔دین کے کاموں کے متعلق ان کے اندر دلچسپی پیدا کریں۔اساتذہ طالب علموں کے ماں باپ کو انگیخت کریں کہ وہ اپنے بچوں کی تعلیم کا پورا پورا خیال رکھیں۔اور حقیقت یہ ہے کہ مائیں ہی اپنے بچوں کے