خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 258 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 258

*1946 258 خطبات محمود حقوق کو ایک حد تک تلف کیا گیا ہے۔چاہے دانستہ تلف نہیں کیا گیا دنیا کی عام رائے کمیشن کی تائید میں ہی ہے مخالف نہیں۔میری ذاتی رائے یہی ہے کہ کمیشن نے اپنی طرف سے یہ ضرور کوشش کی ہے کہ مسلمانوں کے حقوق کو ایک حد تک محفوظ کر دیا جائے مگر بوجہ اس کے کہ وہ تجاویز خود کمیشن کی سوچی ہوئی تھیں ان کی سکیم ویسی کارآمد نہیں جیسے وہ سکیم کار آمد ہو سکتی تھی جو خود مسلمانوں کی طرف سے پیش کی جاتی۔چوتھا نقص جو مسلمانوں کی کوششوں میں واقع ہوا ہے یہ ہے کہ تمام قومیں مختلف تجاویز رکھتی ہیں تا اگر ایک تجویز ختم ہو جائے تو دوسری تجویز سامنے آسکے جو پہلی تجویز کے قائم مقام ہو۔اس وجہ سے کانگرس والے ہمیشہ ان لوگوں سے تعلقات رکھتے رہے ہیں جو ان کی پیش کردہ تجاویز سے نیچے اتر کر دوسرے نمبر کی سکیم پیش کر سکیں۔چنانچہ کانگرس نے آزاد مسلم کا نفرنس کے اراکین کو ہمیشہ اپنے ساتھ رکھا اور پھر خود کانگرس کے لیڈر ان کو اپنے ساتھ لے کر کیبنٹ مشن (Cabinet Mission) سے ملاقات کراتے رہے۔اگر یہ لوگ کا نگر سی نہیں تھے تو کانگرس والوں کو کیا شوق تھا کہ وہ ان کو اپنے ساتھ رکھتے اور کیبنٹ مشن سے ان کی ملاقات کراتے۔صاف ظاہر ہے کہ کانگرس کا آزاد مسلم کا نفرنس والوں کو اپنے ساتھ رکھنا اور ان کی کیبنٹ مشن سے ملاقات کرانا بھی اس غرض سے تھا کہ اگر کمیشن مسلمانوں کے متعلق ہماری سکیم نہ مانے تو دوسرے نمبر کی کوئی اور سکیم کمیشن کے سامنے آجائے جو بہر حال اور سکیموں سے بہتر ہو گی۔مگر مسلم لیگ والوں کا شروع سے یہ رویہ رہا ہے کہ ہماری سکیم کے خلاف جو شخص بھی کوئی آواز بلند کرے گا خواہ وہ ہم سے ایک فیصدی اختلاف ہی کیوں نہ رکھتا ہو وہ کشتی اور گردن زدنی ہو گا۔نتیجہ یہ ہوا کہ جب وزارتی کمیشن نے فیصلہ کیا کہ پاکستان اصل شکل میں مسلمانوں کو نہیں دے سکتے تو اس سے نیچے اتر کر مسلمانوں کے فائدہ کے لئے ان کے سامنے کوئی سکیم نہیں تھی اور انہیں خود سوچنی پڑی۔اور یہ ظاہر بات ہے کہ کمیشن کے ممبر مسلمانوں کے فائدہ کے لئے وہ کچھ سوچ نہیں سکتے تھے جو خود مسلمان اپنے فائدہ کے لئے سوچ سکتے تھے۔اگر مسلم لیگ اپنی اس غلطی کا تدارک کرتی اور وہ ان لوگوں کو ہم آہنگ بنا لیتی جو گو پاکستان کی پوری طرح تائید کرنے والے نہیں تھے لیکن