خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 256 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 256

*1946 256 خطبات محمود مسلم لیگ اگر اس رنگ میں کام کرتی کہ اس نے مظلوموں کو فائدہ پہنچانا ہے تو بے شک اور قوموں کو بھی فائدہ پہنچتا مگر مسلمان چونکہ سب سے زیادہ مظلوم تھے اس لئے ان کو اوروں سے زیادہ فائدہ پہنچتا۔اگر ان اصول کے مطابق کام کیا جاتا تو اس انجمن میں کئی ہندو بھی شامل ہو جاتے، کئی سکھ بھی شامل ہو جاتے اور اچھوت اقوام میں سے تو لاکھوں لوگ اس میں شامل ہو جاتے لیکن مسلمان لیڈروں نے کبھی اس طرف توجہ نہیں کی۔وہ ہمیشہ دوسروں سے الگ ہو کر کام کرتے رہے۔حالانکہ اگر وہ دوسری قوموں کو بھی اپنے ساتھ شامل کرتے تو آج ان کے پاس ایک بہت بڑی فوج ہوتی۔ہندوؤں نے اس راز کو سمجھا اور انہوں نے ایک ایک کر کے تمام قوموں کو اپنے ساتھ ملالیا۔ایک طرف اچھوتوں کو انہوں نے اپنے ساتھ ملایا دوسری طرف مسلمانوں میں سے بعض لوگوں کو اپنے ساتھ ملایا۔تیسری طرف سکھوں کو اپنے ساتھ ملایا۔چوتھی طرف اینگلو انڈینز (Anglo Indians)اور کرسچینز (Christians) کو اپنے ساتھ ملایا اور اس طرح متحدہ طور پر اپنے مطالبات کو انگریزوں کے سامنے رکھا۔مسلمانوں کو سوچنا چاہئے کہ آخر کیا وجہ ہے کہ عیسائی اٹھتے ہیں تو ان کے خلاف آواز بلند کرتے ہیں، اچھوت اٹھتے ہیں تو باوجود اس کے کہ وہ شور مچاتے رہتے ہیں کہ ہندوؤں سے ہمارا کوئی تعلق نہیں پھر بھی وہ مسلمانوں کے خلاف آواز بلند کرتے اور ہندوؤں سے ہی اپنے تعلقات رکھتے ہیں۔یہی حال دوسری اقوام کا ہے کہ وہ بھی ہمیشہ مسلمانوں کے خلاف اپنی آواز بلند کرتی ہیں۔آخر اس کی کوئی نہ کوئی وجہ ہونی چاہئے۔اگر اس وجہ کو تلاش کر کے دور کیا جاتا اور پھر تمام کمزور اور مظلوم اقوام کو اکٹھا کیا جاتا تو یقیناً ان کی آواز میں شدت پیدا ہو جاتی۔پھر اگر مسلمانوں کی آواز مذہبی نقطہ نگاہ سے یورپین ممالک میں نہیں سنی جاتی تھی تو مسلمانوں کو چاہئے تھا کہ وہ مذہب کو کسٹم کے رنگ میں پیش کرتے۔اس کا نتیجہ یہ ہو تا کہ وہی بات جو یورپ، مذہب کے نام سے سننے کے لئے تیار نہیں تھا کسٹم کے نام سے سننے کے لئے تیار ہو جاتا اور اس کی معقولیت کو تسلیم کرتا۔تم کسی یورپین کے سامنے مذہب کا ذکر کرو اور کہو کہ فلاں مطالبہ مذہبی نقطہ نگاہ سے ہمارے لئے اہمیت رکھتا ہے تو وہ کہے گا کہ یہ لغو بات ہے۔لیکن اگر اسی کا نام تم رسم و رواج رکھ دو تو سارا یورپ کہنے لگ جائے گا کہ یہ بڑی معقول بات ہے۔