خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 197 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 197

*1946 197 خطبات محمود مخالفت کے ایک قوم بڑھتی چلی جاتی ہے اور کوئی روک اس کی ترقی میں حائل نہیں ہو سکتی۔بہر حال یہ اللہ تعالیٰ کی تائید اور اس کی نصرت کا ایک بہت بڑا نشان ہے کہ اس نے ہمیں ادنیٰ حالت سے بڑھایا اور کہیں سے کہیں پہنچا دیا۔یہی جگہ ہے جہاں آج سے بتیس سال پہلے یہ کہا گیا تھا کہ ایک بچہ کے ہاتھ میں جماعت کے تمام کاموں کی باگ ڈور دے دی گئی ہے ، یہ لوگ اپنی تباہی کے آپ سامان پیدا کر رہے ہیں۔کچھ زیادہ دن نہیں گزریں گے کہ یہاں تباہی اور بربادی کے آثار پوری طرح ظاہر ہو جائیں گے۔قادیان بالکل ویران ہو جائے گا اور وہ سکول جو اس وقت نظر آرہا ہے اس پر عیسائیوں کا قبضہ ہو گا۔مگر اب وہ سکول جس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے یہ فقرہ کہا گیا تھا سکول نہیں بلکہ کالج بن چکا ہے اور اس سال انشاء اللہ ڈگری کالج بن جائے گا۔اور وہ بچہ جسے قوم کو تباہ کرنے والا قرار دیا گیا تھا اب بچہ نہیں بلکہ بوڑھا ہے۔بڑے بڑے بوڑھوں نے اس بتیس سال کے عرصہ میں اس بچے کا مقابلہ کیا مگر اپنا سر پھوڑنے کے سوا نہیں اور کوئی نتیجہ حاصل نہیں ہوا۔پس خدا کے اس عظیم الشان نشان کو دیکھو، سوچو اور سمجھو اور اپنی زندگی میں ایسی تبدیلی پیدا کرو کہ جس کے نتیجہ میں تمہارا خدا تم سے اور بھی زیادہ خوش ہو جائے۔اور وہ تمہیں اور تمہاری اولادوں کو محمد صلی اللی علم کا متد سایہ بنادے اور تمہیں ایسی توفیق عطا فرمائے کہ تم محمد رسول اللہ صلی علی کریم کے سایہ کو ہمیشہ قائم رکھنے اور اس کو آگے سے آگے بڑھانے کا موجب بنو تاکہ شمس ہونے کی دلیل ہمیشہ قائم رہے۔اور تمہارے لئے الہی نصر تیں ہمیشہ ظاہر ہوتی رہیں اور انسانی تدابیر تمہارے مقابلہ میں ہمیشہ ناکام ہوتی رہیں۔“ ( الفضل 2 مئی 1946ء) : پیغام نے آج اس قول کا انکار کیا ہے مگر یہ انکار ہی اس کے جھوٹے ہونے کا ثبوت ہے۔میں بتیس سال سے اس روایت کو جو مجھ سے بعض احمدیوں نے بیان کی دہراتا چلا آیا ہوں۔مگر آج تک اس کا انکار نہیں کیا گیا۔اب بتیس سال کے بعد اس کا انکار کیا جاتا ہے جو اس امر کا ثبوت ہے کہ اس عرصہ کے بعد خیال کر لیا گیا ہے کہ یاوہ راوی مر چکے ہوں گے یا بات بھول گئے ہوں گے۔اگر یہ انکار کرنے کے قابل بات تھی تو کیوں بنتیں سال کے بعد اب اس کا انکار کیا جاتا ہے۔