خطبات محمود (جلد 27) — Page 193
*1946 193 خطبات محمود خاندان بھی پر دہ چھوڑتے چلے جاتے ہیں اور پردہ کے خلاف دنیا میں ایک عام رو چل رہی ہے لیکن حضرت مرزا صاحب نے کہا کہ اسلام نے اپنے متبعین کو جو پردہ کا حکم دیا ہے ہمیں بہر حال اس پر عمل کرنا ہو گا۔چنانچہ خدا تعالیٰ کے فضل سے باوجود اس کے کہ ہماری جماعت میں دوسروں سے زیادہ تعلیم ہے پھر بھی اسلامی احکام کے مطابق پر دے کا طریق ہماری جماعت میں رائج ہے اور ہمیشہ کثرت کے ساتھ عورتیں اس سلسلہ میں داخل ہوتی رہتی ہیں۔ان میں ایسی بھی ہیں جو ایسے خاندانوں سے تعلق رکھتی تھیں جن میں پردہ کا طریق رائج نہیں تھا۔مگر احدیت قبول کرنے کے بعد انہوں نے بھی پردہ اختیار کر لیا۔پچھلے سے پچھلے سال ایک معزز خاندان جو صوبہ پنجاب سے باہر کا ہے اور جس کا نام میں نہیں لینا چاہتا اُس کی ایک لڑکی ہماری مستورات سے ملی اور آہستہ آہستہ اس کے ہماری مستورات کے ساتھ گہرے تعلقات قائم ہو گئے اور احمدیت کی حقیقت اسے سمجھ آگئی مگر وہ بار بار ہماری مستورات سے کہتی کہ مجھ سے پردہ نہیں کیا جا سکتا اور سینما نہیں چھوڑا جا سکتا۔یہ دو چیزیں میرے راستہ میں روک ہیں۔مگر آخر صداقت اس کے دل میں اتنا گھر کر گئی کہ اس نے ان تمام روکوں کے باوجود احمدیت قبول کر لی۔میری بیوی نے مجھے سنایا کہ وہ برقع پہنے ہوئے تھی۔اس کے آنسو جاری تھے اور وہ یہ کہہ رہی تھی کہ اب تو برقع پہننا ہی پڑے گا۔غرض عور تیں جن کا اس وقت رعب داب پھیل رہا ہے اور جن کی حکومت نئے سرے سے قائم ہو رہی ہے۔ان کی آزادی کی تحریک کے خلاف آپ نے پر دے کے حکم کی تصدیق فرمائی۔اسی طرح عور تیں کثرت ازدواج کے سخت خلاف ہوتی ہیں۔مگر اسلام کہتا ہے کہ ضرورت کے موقع پر ایک سے زیادہ بیویاں کی جاسکتی ہیں۔خواہ وہ ضرورت قومی ہو یا فردی۔بعض لوگ صرف فردی ضرورت کو اہم سمجھتے ہیں حالانکہ اسلام نے فردی اور قومی دونوں ضرورتوں کے ماتحت کثرت ازدواج کو جائز رکھا ہے۔اس حکم پر بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے خاص طور پر زور دیا اور فرمایا کہ جو عورت اس حکم کے خلاف چلتی ہے اس کے ایمان میں کمزوری پائی جاتی ہے۔5 مگر باوجود اس کے کثرت سے عورتیں احمدیت میں داخل ہوئیں اور ہمیشہ داخل ہوتی رہتی ہیں اور وہ تسلیم کرتی ہیں کہ یہ مسائل بالکل درست ہیں۔