خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 191 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 191

*1946 191 خطبات محمود ورقہ بن نوفل آپ پر ایمان لے آتا ہے۔گھر میں آپ نے بات کی تو علی اور زید ایمان لے آئے اور پھر اسی شام یا دوسری شام حضرت ابو بکر بھی آپ پر ایمان لانے والوں میں شامل ہو گئے۔گویا نہ صرف خدا تعالیٰ نے فوراً آپ کا سایہ پیدا کر دیا بلکہ وہ اس سایہ کو لمبا کرتا چلا گیا۔پھر بڑھتے بڑھتے اور بھی کئی جماعتیں اس سایہ میں شامل ہونی شروع ہوئیں۔مدینہ میں خبر پہنچی تو وہاں کے کئی افراد دوڑتے ہوئے آئے اور آپ پر ایمان لے آئے۔پھر فرماتا ہے وَ لَوْ شَاءَ لَجَعَلَهُ سَاكِنا اگر خدا تعالیٰ کی تائید اور اس کی نصرت تیرے شامل حال نہ ہوتی اور تو خدا تعالیٰ کا سچار سول نہ ہو تا تو چاہئے تھا کہ تیرے سایہ کو بڑھانے اور اس کو ترقی دینے کی بجائے خدا تعالیٰ تیرے سایہ کو چھوٹا کر دیتا۔کیا تو خدا تعالیٰ کی اس مدد کو نہیں دیکھتا کہ وہ تیرے سایہ کو لمبا کرتا چلا جاتا ہے؟ اور کیا تیرے منکروں اور دشمنوں کو یہ دکھائی نہیں دیتا کہ ہم کس طرح تیرے سایہ کو لمبا کرتے جارہے ہیں ؟ پھر بعض سائے ایسے ہوتے ہیں جو اتفاقی حادثہ کے رنگ میں ظاہر ہوتے ہیں اور گو وہ سائے بھی بڑھتے اور ترقی کرتے ہیں لیکن جس قدر وہ سائے ممتد ہوتے چلے جاتے ہیں صاف ظاہر ہوتا جاتا ہے کہ دنیوی ذرائع اور مادی سامان اس کو لمبا کرنے میں کام کر رہے ہیں۔الہی تائید اور نصرت کا اس میں ہاتھ نہیں۔مگر فرماتا ہے ثُمَّ جَعَلْنَا الشَّمْسَ عَلَيْهِ دَلِيلًا تمہارا سایہ صرف لمبا ہی نہیں بلکہ ہم سورج کو بھی اس پر دلیل بنارہے ہیں۔یعنی ہر شخص کو نظر آرہا ہے کہ یہ سایہ مصنوعی ذرائع سے پیدا نہیں ہوا۔دنیا میں سایہ لیمپوں سے بھی بنایا جا سکتا ہے۔ایک درخت کے پیچھے لیمپ رکھ دو تو اس کا سایہ بن جائے گا، موم بتی جلا دو تب بھی سامیہ بن جائے گا مگر موم بتی اور لیمپ خدائی ذرائع نہیں انسانی ذرائع ہیں۔لیکن سورج ایک ایسی چیز ہے جو محض خدائی ذریعہ ہے۔پس فرماتا ہے ثُمَّ جَعَلْنَا الشَّمْسَ عَلَيْهِ دَلِيلًا۔تیری ترقی الہی سامانوں اور نصر توں کی وجہ سے ہے نہ کہ انسانی سامانوں اور مادی ذرائع کی وجہ سے۔کیا دشمن اس بات کو دیکھتا نہیں کہ ایک طرف تیری ترقی پر ترقی ہو رہی ہے اور دوسری طرف تیری ترقی مادی سامانوں اور انسانی ہاتھوں سے نہیں بلکہ خدائی ہاتھ تجھ کو بڑھاتا چلا جارہا ہے۔یہ ثبوت ہے اس بات کا کہ تُو ہمارا سچار سول ہے۔