خطبات محمود (جلد 27) — Page 170
*1946 170 خطبات محمود جاتا ہے اُن بازاروں میں تاجر اور دکاندار یا تو احمدی ہوں یا احمدیت کی آواز سے مرعوب ہوں۔اسی طرح وہ اہل حرفہ اور اہل پیشہ جو اس کے گھر پر کام کرنے کے لئے آتے ہیں یا یہ ان کے گھر پر کام کرانے کے لئے جاتا ہے وہ سب کے سب یا تو احمدی ہوں یا احمدیت کی آواز سے متاثر ہوں۔اگر ایک مزدور اس کے گھر پر مزدوری کے لئے آتا ہے یا یہ اس کے پاس کسی کام کے سلسلہ میں جاتا ہے تو ضروری ہے کہ وہ مز دور احمدی ہو یا احمدیت سے متاثر ہو۔اگر ایک سقہ اس کے مکان پر پانی ڈالنے کے لئے آتا ہے یا یہ اس کے مکان پر یہ کہنے کے لئے جاتا ہے کہ میرے گھر میں پانی ڈال دیا کرو تو وہ یا تو احمدی ہو یا احمدیت کی آواز سے متاثر ہو۔اسی طرح ایک نائی اس کے پاس حجامت بنانے کے لئے آتا ہے یا یہ اس کے پاس حجامت بنوانے کے لئے جاتا ہے یا ایک درزی اس کے پاس کپڑوں کی سلائی لینے کے لئے آتا ہے یا یہ اس درزی کے پاس کپڑوں کو سلانے کے لئے جاتا ہے یا ایک دھوبی اس کے پاس کپڑے لینے کے لئے آتا ہے یا یہ دھوبی کے پاس کپڑے دینے کے لئے جاتا ہے تو ضروری ہے کہ وہ نائی اور وہ درزی اور وہ دھوبی یا تو احمدی ہو یا احمدیت کی آواز سے متاثر ہو۔یا مثلاً ایک لوہار کسی کام کے لئے اس کے پاس آتا ہے یا یہ اس لوہار کے پاس جاتا ہے یا ایک ترکھان اس کے مکان کی مرمت کے لئے آتا ہے یا یہ اس ترکھان کے مکان پر جاتا ہے تو ضروری ہے کہ وہ لوہار اور ترکھان یا تو احمدی ہوں یا احمدیت کی آواز سے مرعوب ہوں۔جب تک ہم اپنے ارد گرد کے ماحول کو بھی احمدی نہیں بنا لیتے، جب تک ہمارے دائیں اور ہمارے بائیں کام کرنے والے احمدی نہیں بن جاتے یا احمدیت کی آواز سے مرعوب نہیں ہو جاتے اس وقت تک لازما کان میں دو قسم کی آوازیں پڑتی رہیں گی اور دو قسم کی آوازیں ہمیشہ انسان کو یا تو گمراہ کر دیتی ہیں اور یا اس میں ہسٹیریا (HYSTERIA) کا مرض پیدا کر دیا کرتی ہیں۔پرانے زمانہ میں لوگ کہا کرتے تھے کہ دو کشتیوں میں قدم رکھنے والا سلامت نہیں رہ سکتا۔یہ بھی صحیح ہے لیکن اس سے بھی زیادہ صحیح وہ حقیقت ہے جو موجودہ زمانہ میں علم النفس کے ماہرین نے ثابت کی ہے اور وہ حقیقت یہ ہے کہ دو قسم کی آوازوں کا کان میں پڑ نادو کشتیوں میں قدم رکھنے سے بھی زیادہ خطر ناک ہوتا ہے۔کشتیاں اِدھر اُدھر ہوں تو زیادہ سے زیادہ یہی