خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 139 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 139

*1946 139 خطبات محمود نہیں کیا۔محکمہ زراعت والے جو دلیل دیتے ہیں وہ معقول ہے اور ہر انسان سمجھ سکتا ہے کہ اگر ایک ایکڑ کو ایک ہی طرف سے پانی دیا جائے تو پانی زیادہ خرچ ہو گا۔بہ نسبت اس کے کہ اس کے چار حصے کر کے انہیں علیحدہ علیحدہ رستوں سے پانی دیا جائے۔میری اس بات کے جواب میں سب نے کہا کہ ہم نے تو ایکڑ کے چار ٹکڑے کر دیئے ہیں لیکن پتہ نہیں کہ پانی کیوں نہیں بچا۔آخر میں نے عزیزم داؤد سے پوچھا کہ تم بتاؤ کہ کیا وجہ ہے کیوں پانی نہیں بچتا اور کاشت کیوں زیادہ نہیں ہو رہی؟ تو وہ کہنے لگا کہ یہ تو ٹھیک ہے کہ ایک ایکڑ کے چار ٹکڑے کر دیئے گئے ہیں لیکن پانی ایک ہی منہ سے دیا جاتا ہے۔میر اچاروں ٹکڑوں کے متعلق پوچھنے سے بھی مقصد یہی تھا کہ چاروں حصوں کو الگ الگ پانی دیا جاتا ہے یا ایک ہی طرف سے۔لیکن وہ جواب میں یہ کہتے جاتے تھے کہ ہم نے چار ٹکڑے کر دیئے ہیں۔یہ بات تو ٹھیک تھی کہ انہوں نے واقع میں چار ٹکڑے کر دیئے تھے لیکن پانی ان چاروں کو ایک ہی طرف سے ملتا تھا۔ان کا یہ کہنا کہ ہم نے چار ٹکڑے کر دیئے ہیں مجھے دھوکا دینے کے لئے تھا کہ میں ان کے ان الفاظ سے دھوکا کھا جاؤں۔جب ان کو علم تھا کہ ہم چار ٹکڑے کرنے کی غرض کو پورا نہیں کر رہے تو ان کو چاہئے تھا کہ وہ صاف کہہ دیتے کہ چار حصے تو کر دیئے ہیں لیکن ابھی پانی ایک ہی طرف سے جاتا ہے۔بس بات ختم ہو جاتی۔خواہ مخواہ میرے دو گھنٹے ضائع کرادیئے۔اس بات کو دیکھ کر ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ابھی احمدیوں میں بعض ایسے لوگ پائے جاتے ہیں جو یہ خیال کرتے ہیں کہ اگر وہ اس قسم کا فقرہ بولیں جس کے لفظ بظاہر کم ہوں مگر مفہوم غلط ہو تو وہ اس میں حرج نہیں سمجھتے۔یہ وہ لوگ ہیں جو یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم سچائی کو دنیا میں قائم کریں گے۔مجھے ان کی اس حرکت سے سخت تکلیف ہوئی ہے۔مومن کا کام ہے کہ جو بات اس سے پوچھی جائے اسے صاف طور پر بیان کرے تاکہ پوچھنے والا کسی نتیجہ پر پہنچ سکے۔لیکن آجکل حالت یہ ہے کہ عوام کے نزدیک اس قسم کا جھوٹ، جھوٹ سمجھا ہی نہیں جاتا۔اور سچ بولنے کی وجہ سے جو شرمندگی اور ندامت اٹھانی پڑتی ہے اس کو برداشت کرنے کے لئے لوگ تیار ہی نہیں ہوتے۔جھوٹ بول کر سر خرو ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔مجھے اپنا ایک واقعہ یاد آگیا گو ہے تو وہ شرم کا مگر شریعت میں ایسی باتوں کو بیان کرنا