خطبات محمود (جلد 27) — Page 122
*1946 122 خطبات محمود جھوٹ اس قدر عام ہو گیا ہے کہ اس کی تعریف ہی بدل گئی ہے۔ایک آدمی جھوٹ بولتا ہے مگر سمجھتا یہ ہے کہ وہ سچ بول رہا ہے۔اسی الیکشن کے سلسلہ میں ایک صاحب مجھے ملنے کے لئے آئے۔ان کے ساتھ ہمارے وہاں کے امیر جماعت بھی تھے۔انہوں نے اپنی تعریف شروع کی کہ میں بہت راست باز ہوں۔آپ کے امیر صاحب مجھے اچھی طرح جانتے ہیں کہ میں جو وعدہ کرتا ہوں اسے پورا کرتا ہوں۔مجھے احمدیوں کے ووٹوں کی کوئی خاص ضرورت نہیں۔امیر صاحب سے میرے تعلقات ہیں۔میں نے امیر صاحب سے کہا کہ آپ لوگوں سے میرے تعلقات ہیں اس لئے آپ لوگ مجھے ہی ووٹ دیں۔پھر انہوں نے کہنا شروع کیا کہ میں نے مسلم لیگ کو آپ سے وابستہ کرنے کے لئے بہت کوشش کی ہے۔چنانچہ اس سلسلہ میں مسلم لیگ کے ایک بڑے لیڈر سے ملا اور ان سے کہا کہ آپ احمدیوں کو خوش کریں ورنہ ہمارا جینا محال ہے۔اور میں نے کہا کہ میرے حلقہ میں 1327 ووٹ احمدیوں کے ہیں۔اگر وہ ووٹ مجھے نہ ملیں تو میں جیت نہیں سکتا اس لئے آپ لوگ احمدیوں کو خوش کریں۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ میں نہیں جانتا کہ احمدیوں کے ووٹ میرے علاقہ میں ایک ہے یا دو ہیں یا دس ہیں یا بہیں ہیں لیکن میں نے 1327 اس لئے بتائے کہ ان پر رُعب پڑے اور تیرہ سو کے اوپر 27 کا عدد اس لئے بڑھایا کہ انہیں یقین ہو جائے کہ یہ گن کر آیا ہے یو نہی اندازہ سے نہیں بتا رہا۔اب دیکھئے کہ وہ اسی مجلس میں اپنے سچا ہونے کا دعویٰ کر رہے تھے اور اسی مجلس میں اپنا جھوٹ بیان کر رہے تھے لیکن ہماری جماعت کی یہ حالت نہیں ہونی چاہئے بلکہ ہماری حالت ایسی ہونی چاہئے کہ دوسرے لوگ ہمارے نمونہ سے متاثر ہوں۔مومن کے لئے سچ بہت پیاری چیز ہے اور وہ اس کو کسی حالت میں چھوڑنے کو تیار نہیں ہو تا۔اگر ہماری جماعت سختی کے ساتھ سچ پر کار بند ہو جائے تو ساری تبلیغ خود بخود ہو جاتی ہے۔جب لوگ دیکھیں گے کہ یہ لوگ دنیاوی معاملات میں سچ بولتے ہیں تو سمجھیں گے کہ دینی معاملات میں بھی سچ ہی بولتے ہوں گے۔پس ہماری جماعت کو تبلیغ کے تمام ذرائع کو مد نظر رکھنا چاہئے۔اس وقت اللہ تعالیٰ نے احمدیت کی ترقی کے ذرائع پیدا کر دیئے ہیں اور دن بدن زیادہ پیدا کرتا جارہا ہے اور دنیا میں ایک تزلزل پیدا ہو چکا ہے۔اس وقت موقع ہے کہ اسلام پھر اپنے پاؤں پر کھڑا ہو جائے۔پس دوستوں کو تبلیغ کی طرف