خطبات محمود (جلد 27) — Page 102
*1946 102 خطبات محمود دینے میں کوئی دریغ نہیں ہو سکتا۔اور نہ کسی اور پارٹی کے آدمی کو جو مسلمانوں کے لئے مضر نہ ہو۔(4) غیب سے سلسلہ کی ترقی کے سامان: چوتھی بات میں یہ بیان کرنا چاہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ غیب سے ہمارے سلسلہ کی ترقی کے سامان پیدا کر رہا ہے۔چنانچہ انہی دنوں خدا تعالیٰ نے بعض ایسے سامان پیدا کئے ہیں جو انسان کو تعجب میں ڈالتے ہیں۔دنیا میں بعض علاقے ایسے ہیں جہاں ہم لوگوں کا جانا خصوصاً ہندوستانیوں کا جانا قریباً ناممکن ہے۔اور جو ہند وستانی پہلے سے وہاں گئے ہوئے ہیں وہ بھی کئی قسم کی تکالیف اٹھاتے رہتے ہیں۔جیسے ساؤتھ افریقہ ہے۔ساؤتھ افریقہ والے نئے ہندوستانیوں کو وہاں نہیں آنے دیتے اور پرانے ہندوستانی باشندوں پر اتنی سختی کرتے ہیں کہ ریسٹوران اور ہوٹلوں میں ہر جگہ یہ لکھا ہوتا ہے کہ ہندوستانی یہاں نہیں آسکتے۔ریل گاڑیوں پر لکھا ہوتا ہے کہ ہندوستانیوں کو یہاں داخل ہونے کی اجازت نہیں۔ان کے لئے بعض مخصوص ڈبے ہوتے ہیں جن پر یہ لکھا ہوتا ہے کہ یہ ہندوستانیوں کے لئے ہیں۔ہوٹلوں کے باہر لکھا ہوتا ہے کہ ہندوستانیوں کو ان میں داخل ہونے کی اجازت نہیں۔یا لکھا ہوتا ہے کہ فلاں کمرے میں ہندوستانی بیٹھ کر کھانا کھا سکتے ہیں۔ایسی جگہ پر ہمارے کسی آدمی کا پہنچنا بالکل ناممکن تھا۔سالہا سال سے ہم حسرت کی نگاہ سے دیکھ رہے تھے کہ کوئی ذریعہ وہاں آدمی بھیجوانے کا نکل آئے تو ہم وہاں اپنا مبلغ بھیج دیں لیکن کوئی ذریعہ نظر نہیں آتا تھا۔پیر کے دن اچانک مجھے معلوم ہوا کہ ڈاکٹر یوسف سلیمان صاحب جنہوں نے انگلستان میں ڈاکٹری پاس کی اور وہیں اپنی جوانی کے ایام میں رہے ہیں اچانک قادیان میں آپہنچے ہیں۔مجھے اس سے پہلے نیر صاحب کا خط آیا تھا کہ ڈاکٹر سلیمان صاحب قادیان آرہے ہیں اور میں حیران تھا کہ ڈاکٹر سلیمان صاحب کے آنے کی نہ شمس صاحب نے اطلاع دی ہے اور نہ کسی اور نے۔یہ بات کیا ہے؟ مگر ابھی نیر صاحب کو اس بارہ میں کوئی خط نہیں لکھا گیا تھا کہ ڈاکٹر یوسف سلیمان صاحب اچانک قادیان پہنچ گئے۔ڈاکٹر صاحب نے اپنی ساری عمر انگلستان میں گزاری ہے۔انہوں نے ڈاکٹری پاس تو کی تھی لیکن ڈاکٹری پیشہ اختیار نہیں کیا۔ان کے والد صاحب امیر آدمی تھے اور اتنی جائیداد انہوں نے چھوڑی ہے کہ وہ اسی پر گزارہ کرتے ہیں۔ان کے والد کیپ ٹاؤن کے علاقہ کے ویسے ہی