خطبات محمود (جلد 27) — Page 101
*1946 101 خطبات محمود یونینسٹ پارٹی کی طرف سے ہوا اور چودھری اسد اللہ خان صاحب نے وہاں کی جماعتوں کو یہ ہدایت کی کہ وہ اپنے ووٹ صاحبزادہ فیض الحسن صاحب کو دیں۔یہ واقعات ہیں جن کی بناء پر صاحبزادہ صاحب کو جماعت نے ووٹ دیئے۔جماعت کا یونینسٹ پارٹی سے یہ وعدہ تھا کہ ان کا جو نمائندہ وہاں کھڑا ہو گا۔جماعت اسے ووٹ دے گی۔یونینسٹ نے صاحبزادہ صاحب کو اپنا لیا اور جماعت نے اپنے وعدہ کے مطابق صاحبزادہ صاحب کو ووٹ دیئے۔ہم نے یونینسٹ پارٹی سے یہ شرط نہیں کی تھی کہ اگر وہ آدی ہماری مرضی کے مطابق ہو گا تو اسے ووٹ دیں گے اور اگر ہماری مرضی کے مطابق نہیں ہو گا تو اسے ووٹ نہیں دیں گے۔یونینسٹ پارٹی نے صاحبزادہ صاحب کو کھڑا کیا۔ہم نے انہیں ووٹ دے دیئے۔پھر صاحبزادہ صاحب خود یہاں آئے اور جماعتی معاہدہ کرنے کے لئے آمادگی کا اظہار کیا۔اس کے گواہ خان بہادر قاسم علی صاحب اور چودھری ظفر اللہ خان صاحب ہیں۔(خان بہادر قاسم علی صاحب احمدی نہیں ہیں) چونکہ الیکشن گزر چکا ہے اور صاحبزادہ صاحب کے یہ الفاظ تھے کہ الیکشن کے دوران میں اس بات کو ظاہر نہ کیا جائے کیونکہ مجھے نقصان پہنچنے کا احتمال ہے۔الیکشن کے بعد آپ جس طرح چاہیں اسے استعمال کریں۔اور دوسرے ان کی پارٹی نے یہ کہا ہے کہ انہوں نے احمدیوں سے کوئی مدد وغیرہ نہیں مانگی اور نہ احمدیوں نے ان کی مدد کی ہے، احمدیوں نے محض احرار کو بدنام کرنے کے لئے ایسا کیا ہے۔اس لئے میں اس حقیقت کا اظہار کر رہا ہوں اور میں جماعت کے دوستوں کو بتا دینا چاہتا ہوں کہ احرار کو اگر ہم نے ووٹ دیئے ہیں تو سیاسی معاملہ میں دیئے ہیں نہ کہ کسی دینی معاملہ میں۔اس سے پہلے مولوی ظفر علی خان صاحب کو جو کہ سنٹرل اسمبلی کے ممبر ہوئے ہیں ہماری جماعت نے ووٹ دیئے تھے کیونکہ ہم سمجھتے ہیں کہ دنیوی معاملے میں اگر ایک احراری مسلمان قوم کے لئے زیادہ مفید ہو سکتا ہے تو ہم احراری کو کیوں ووٹ نہ دیں۔ہر مسلمان جو سیاسیات کے لحاظ سے مسلمان کہلاتا ہے اگر ہم اس کے متعلق یہ سمجھتے ہوں کہ وہ زیادہ اچھا کام کر سکتا ہے تو ہمارا فرض ہے کہ ہم اسے ووٹ دیں خواہ وہ شیعہ ہو یا سنی۔یا وہابی ہو یا غیر وہابی۔اسی طرح اگر ہم ایک مسلم لیگی کے متعلق سمجھتے ہیں کہ وہ مسلمانوں کے لئے مفید کام کر سکتا ہے تو ہمیں اس کے احمدی نہ ہونے کی وجہ سے اسے ووٹ