خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 99 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 99

*1946 99 خطبات محمود فرماتے ہیں:۔”جب صاحبزادہ فیض الحسن صاحب آلو مہاری اواخر جنوری 1946ء میں قادیان آئے تو حضرت۔۔۔خَلِيْفَةُ الْمَسِيحِ الثَّانِي أَيَّدَهُ اللهُ بِنَصْرِہ کے پاس جانے سے قبل میرے مکان پر بھی تشریف لائے تھے۔اس وقت ان کے ساتھ مکرم چودھری سر محمد ظفر اللہ خاں صاحب اور خان بہادر چودھری قاسم علی صاحب آف ڈسکہ بھی تھے۔مکرمی چودھری صاحب نے میرے ساتھ صاحبزادہ صاحب کا تعارف کرایا۔جس پر مجھے حیرانی ہوئی کہ وہ اتنی مخالفت کے باوجود کس طرح تشریف لائے ہیں۔لیکن ابھی میں نے کوئی بات نہیں کی تھی کہ چودھری صاحب نے از خود ہی فرمایا کہ صاحبزادہ صاحب اپنے لئے حلقہ ڈسکہ کے احمدی ووٹروں کی امداد حاصل کرنے کے واسطے قادیان آئے ہیں اور میں حضرت صاحب کی ملاقات سے قبل انہیں آپ کے پاس لے آیا ہوں۔اس پر میں نے احرار پارٹی کی شدید مخالفت کے پیش نظر صاحبزادہ صاحب سے پوچھا کہ کیا آپ نے اس بارے میں اپنی پارٹی کے ساتھ بھی بات کر لی ہے؟ صاحبزادہ صاحب نے فرمایا۔ہاں میں نے بات کر لی ہے اور خصوصیت سے مولانامظہر علی صاحب اظہر کا نام لیا کہ میں ان کے ساتھ بات کر کے ہی قادیان آیا ہوں۔میں نے کہا۔فیصلہ تو حضرت صاحب فرمائیں گے لیکن اس قدر میں یقین رکھتا ہوں کہ چونکہ یہ ایک سیاسی کام ہے اس لئے مذہبی اختلاف کی بناء پر انکار نہیں کیا جائے گا۔چودھری صاحب نے فرمایا۔میں نے بھی صاحبزادہ صاحب سے یہی کہا ہے۔اس کے بعد چودھری صاحب نے مکر می سید ولی اللہ شاہ صاحب ناظر امور عامہ کی طرف پیغام بھجوایا کہ جو معاہدہ الیکشن میں امداد لینے والے امید واروں سے لکھایا جاتا ہے اس کی نقل بھجوا دیں تا وہ صاحبزادہ صاحب کو دکھا دیا جائے۔چنانچہ پیغام جانے پر مکر می ناظر صاحب امور عامہ اس معاہدہ کا مسودہ خود اپنے ساتھ لے کر تشریف لے آئے اور صاحبزادہ فیض الحسن صاحب نے ہم سب کے سامنے اسے پڑھا اور پڑھنے کے بعد فرمایا کہ اس میں کوئی ایسی بات نہیں جس کی وجہ سے مجھے اس معاہدہ کے لکھ دینے سے انکار ہو۔اس کے بعد صاحبزادہ صاحب حضرت صاحب کی ملاقات کے لئے تشریف لے گئے۔فقط خاکسار مرزا بشیر احمد 66