خطبات محمود (جلد 27) — Page 91
*1946 91 خطبات محمود رہے ہیں تو وہ کہہ دیتے کہ ہم اکثریت میں ہونے کے باوجود تمہارے پیچھے چل پڑتے ہیں۔لیکن اقلیت نے اس بات پر اصرار کیا کہ وہ ضرور اپنی بات منوا کر رہیں گے اور اکثریت نے اس بات پر اصرار کیا کہ ہماری اکثریت ہے ہم اپنی بات ضرور منوائیں گے۔حالانکہ اقلیت کا یہ فرض تھا کہ وہ اکثریت کے فیصلہ کی اتباع کرتی اور اپنی ذاتی اغراض کو پس پشت ڈال دیتی۔اور اگر اقلیت اس بات پر مُصر تھی تو اکثریت کا فرض تھا کہ دانائی کو کام میں لاتے ہوئے اقلیت کے پیچھے چل پڑتی تاکہ تفرقہ پیدا نہ ہوتا۔جس طرح فرض تو بیٹے کا ہے کہ وہ اپنے باپ کی بات مانے لیکن کبھی باپ ہی اپنے بیٹے کی بات مان لیتا ہے۔اسی طرح اس جھگڑے کو اس صورت میں بھی طے کیا جا سکتا تھا کہ دونوں فریق کہہ دیتے کہ نہ ہم کسی کے حق میں ووٹ دیتے ہیں نہ آپ کسی کے حق میں ووٹ دیں۔دونوں اپنے اپنے گھر بیٹھ جاتے۔ہم بھی کہتے کہ ہم تمہیں معاف کر دیتے ہیں کیونکہ تم لوگوں نے تفرقہ کا دروازہ کھولنے سے اپنے تئیں روکا ہے۔لیکن ان لوگوں نے خوب پارٹی بازی کی اور جماعتی اتحاد کو نقصان پہنچایا۔میں نے وہاں کے لوگوں کو اس لئے سزا نہیں دی کہ ان میں سے کچھ لوگوں نے مسلم لیگ کی یا کچھ لوگوں نے یونینسٹ پارٹی کی کیوں تائید کی بلکہ میں نے اس لئے ان کو سزا دی ہے کہ ایک دنیوی معاملہ کے لئے انہوں نے جماعت کے اندر تفرقہ پیدا کیا۔میں نے ان کو یہ سزادی ہے کہ تحصیل گوجر انوالہ کا کوئی شخص میرے ساتھ ملاقات نہیں کر سکتا۔اسی طرح مجلس شوریٰ میں ان کو حق نمائندگی سے محروم کیا جاتا ہے۔آخر ووٹ دینا مقدم نہ تھا۔مقدم بات یہ تھی کہ احمدیوں کا آپس میں اتحاد قائم رہے۔پس ہم نے اس لئے ان کو سزا نہیں دی کہ کیوں ان میں سے کچھ لوگوں نے مسلم لیگ کی تائید کی یا کیوں ان میں سے کچھ لوگوں نے یونینسٹ پارٹی کی تائید کی۔اگر مسلم لیگ کی تائید کی وجہ سے ان کو سزادی جاتی تو یونینسٹ کی تائید کرنے والوں کو سزا نہیں ہونی چاہئے تھی؟ اور اگر یونینسٹ کی تائید کی وجہ سے سزادی جاتی تو مسلم لیگ کی تائید کرنے والوں کو سزا نہیں ہونی چاہئے تھی۔لیکن سزا دونوں پارٹیوں کی تائید کرنے والوں کو دی گئی ہے کیونکہ ہمارے نزدیک ایسے اختلاف کی صورت میں اس بات کی اہمیت نہیں رہتی کہ وہ مسلم لیگ کو ووٹ دیں یا یونینسٹ کو۔ہم نے ان کو سزا اس لئے دی ہے کہ انہوں نے کیوں اس معاملے کو اس قدر