خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 626 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 626

*1946 626 خطبات محمود کہ کتنے آدمیوں سے میں یہ کام کر سکتا ہوں اور میں نے خیال کیا کہ اگر پندرہ سو آدمی جمع ہو جائیں تو ہم اس آزادی کو بر قرار رکھ سکیں گے۔اس پر میری آنکھ کھل گئی۔اب دیکھو اس کے بعد کے واقعات بالکل اسی طرح رونما ہوئے۔انگریزوں نے حکومت کا نگرس منسٹری (Congress Ministry) کو دے دی اور ملک میں شور پڑ گیا کہ ہندوؤں کی حکومت ہو گئی۔بس فیصلہ ہو گیا۔کانگرس بھی حکومت کے غرور میں آگئی اور اس نے کہنا شروع کر دیا کہ اب ہمارا راج ہے۔اب پر انا زمانہ نہیں رہا۔پولیس اور فوج میں بھی گھبراہٹ پیدا ہوئی کہ یہ کیا بن گیا ہے اور کانگرس اعلان پر اعلان کرتی کہ اب ہمارا راج ہے۔اب کسی کو ہمارے معاملات میں دخل نہیں دینا چاہئے۔یہ دس پندرہ دن مسلمانوں کے لئے نہایت بے چینی اور پریشانی کے دن تھے۔مسلمان یہ سمجھتے تھے کہ اب ہندوؤں کا راج ہو گیا ہے۔اس کے بعد میں دہلی گیا اور مسلمانوں کی پریشانی کو دور کرنے کے لئے ہم جو کوشش کر سکتے تھے ہم نے کی۔ہم نے انتہائی کوشش کی کہ مسلم لیگ کسی طرح عارضی حکومت میں آجائے۔ہم نے دعاؤں کے ذریعہ تدبیروں کے ذریعہ کو ششوں کے ذریعہ اس کام کو سر انجام دینے کے لئے سعی کی۔گو کانگرس یہ نہیں چاہتی کہ مسلم لیگ عارضی حکومت میں آئے لیکن اللہ تعالیٰ نے ایسے سامان پیدا کر دیئے کہ مسلم لیگ عارضی حکومت میں داخل ہو گئی اور کانگرس پر ان کا اندر آنا گراں گزرنے لگا اور انہوں نے ایسی کارروائیاں شروع کیں کہ آزادی کے خواب خیال بننے لگ گئے۔آخر وہی جو میں نے خواب میں کہا تھا پنڈت نہرو کو میرٹھ کے کانگرس کے اجلاس میں کہنا پڑا۔انہوں نے کہا ہے ہم یہ سمجھتے تھے کہ انگریزوں نے ہمیں آزادی دے دی ہے اور جو آزادی ہمیں ملنی چاہئے تھی وہ مل گئی ہے اور لارڈ ویول ہمارے ساتھ اس طرح کام کرتے رہے کہ ہمیں ان کے متعلق حسن ظنی تھی لیکن اب آہستہ آہستہ جب سے مسلم لیگ حکومت میں آئی ہے۔پہلے جیسے حالات نہیں رہے اور مسلم لیگ اور انگریزوں میں کوئی سازش معلوم ہوتی ہے۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ انگریز آہستہ آہستہ آزادی دینے سے پیچھے ہٹ رہے ہیں اور انگریزوں کے ارادے اب بدلے ہوئے معلوم ہوتے ہیں اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ اب ہمیں آزادی دینے کو تیار نہیں اور مسلم لیگ ان کے پنجہ کو مضبوط کر رہی ہے۔اب دیکھو کیسی