خطبات محمود (جلد 27) — Page 54
*1946 54 خطبات محمود ملے ہیں جو صحابہ کے مقام تک پہنچے لیکن ہماری جماعت ابھی جماعتی لحاظ سے صحابہ کے مقام تک نہیں پہنچی اور ابھی جماعت کو اُس مقام تک پہنچنے کے لئے بہت بڑی جدو جہد اور قربانی کی ضرورت ہے۔مگر صحابہ کی قربانیاں بھی اسلام کو تین سوسال تک ہی زندہ رکھ سکیں۔پھر فیج آغوج آگیا۔اگر ہم صحابہ کے مقام پر بھی پہنچ جائیں تب بھی ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہم تین سو سال تک زندہ رہ سکیں گے۔حضرت مسیح ناصری کی تعلیم میں تو ڈیڑھ سو سال بعد ہی شرک پیدا ہونا شروع ہو گیا تھا۔پس ہمارے لئے ایک تھوڑا سا وقت مقدر ہے اس تھوڑے سے وقت میں کیا تینتیس مبلغ دو لاکھ مبلغوں کا کام کر سکتے ہیں؟ یقیناً جب تک غیر معمولی کوشش ہماری طرف سے نہ ہو، جب تک غیر معمولی فضل اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل نہ ہو اُس وقت تک یہ کام کبھی نہیں ہو سکتا۔ہاں خدا تعالیٰ کا فضل جب نازل ہو تو دنیا میں آپ ہی آپ ایک نئی زندگی پیدا ہو جاتی ہے۔رسول کریم صلی علی کرم فرماتے ہیں ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ انسان رات کو مومن سوئے گا۔اور صبح کو اُٹھے گا تو کافر ہو گا اور رات کو کافر سوئے گا اور صبح اُٹھے گا تو مومن ہو گا۔5 اس کے یہی معنے ہیں کہ خدا تعالیٰ کی تقدیر ان دنوں بڑے زور سے جاری ہو گی۔ایک شخص کارات کو مومن سونا اور صبح و کا فراٹھنا یہ تو ہمارے کام میں داخل نہیں اور نہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس کام کے لئے دنیا میں آئے۔یہ تو دشمنوں کا حصہ ہے۔ہمارا حصہ یہ ہے کہ ایک شخص رات کو کا فرسوئے اور صبح اُٹھے تو مومن ہو۔یہ تقدیر ہمارے ساتھ تعلق رکھتی ہے اور اس کو کھینچنا ہمارا اصل کام ہے۔اس غرض کے لئے جو آدمی ہم نے تیار کر کے باہر بھیجے ہیں جیسا کہ میں نے بتایا ہے وہ آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں بلکہ آٹے میں جتنا نمک ہوتا ہے اس سے یقیناً بہت کم ہیں اور در حقیقت اسے تبلیغی جد وجہد کہنا بھی غلط ہے۔پھر نہ معلوم جب انہوں نے عملی زندگی میں قدم رکھا تو کس طرح کام کریں گے۔ان کے دماغ کتنے روشن ہوں گے، ان کے اندر عرفان کس حد تک پیدا ہو گا، ان کا ایمان انہیں کتنی قربانی پر آمادہ کرے گا اور پھر ان کی آواز میں کتنا اثر ہو گا کہ لوگ ان کی طرف متوجہ ہوں۔ان کے قلوب ان کی طرف کھنچ جائیں اور وہ ایمان کی طرف قدم اٹھانے کے لئے تیار ہو جائیں۔یہ سار اکام ایسا ہے جو ہمارے قبضہ میں نہیں بلکہ اس میں سے کچھ حصہ تو ہمارے مبلغین کے ساتھ