خطبات محمود (جلد 27) — Page 617
*1946 617 خطبات محمود اس کو رد کرتے ہیں۔کیا تم ہمیں ان کی طرف کھینچتے ہو جن کی بات کو کوئی بھی تسلیم کرنے کو تیار نہیں ؟ اس کے مقابل پر ہم تمہیں اس کی طرف بلاتے ہیں جس نے خدا تعالیٰ کے فضل سے اکیلے کھڑے ہو کر تمہارے صدیوں کے علماء اور صوفیاء کو رگید کر رکھ دیا۔کیا ہم ایسے لوگوں کے پیچھے جائیں جنہوں نے ایسی شکست کھائی کہ جس مسئلے پر پہلے وہ کفر کے فتوے لگاتے پھرتے تھے ابھی ان پر موت بھی نہ آئی تھی کہ وہ اُسی مسئلے کے متعلق یہ کہنے لگ گئے کہ یہ مسئلہ اہم نہیں ہے اور معمولی ہے؟ پھر اُن کو کہو کہ وہ اب اپنے مولویوں سے جا کر پوچھیں کہ اگر یہ مسئلہ معمولی تھا اور اہم نہیں تھا تو بے حیاؤ ! اس کے لئے تم نے کفر کے فتوے کیوں لگائے تھے ؟ اور شکست تو مرنے کے بعد یا ایک مدت کے بعد ہوتی ہے مگر یہ تو تمہاری زندگی میں ہی ہو گئی۔اور تھوڑا عرصہ پہلے جس مسئلہ پر تم کفر کے فتوے لگاتے تھے اب کہنے لگے ہو کہ یہ معمولی مسئلہ ہے۔اس سے زیادہ کمزوری ان کے اندر اور کیا ہو سکتی ہے۔کیا ان کے ایمان اور دیانت میں خلل نہیں واقع ہو چکا؟ کیا اگر وہ کفر کے فتوے لگانے کے وقت ایماندار تھے تو اب بے ایمان نہیں ہو چکے ؟ کجا یہ کہ اس مسئلے کو لے کر وہ گھر گھر، گلی گلی اور ملک ملک میں سر گرداں پھرے اور انہوں نے کفر کے فتوے تیار کئے اور کجا اب یہ حالت ہے کہ وہ یہ کہنے پر مجبور ہو گئے ہیں کہ وفات مسیح کا مسئلہ اہم نہیں ہے اس کو جانے دو۔پس یہ ایک ایسا کارآمد حملہ ہے جس میں دشمن ہر گز نہیں بچ سکتا۔اسی طرح تعلیم یافتہ طبقہ کو بھی توجہ دلاؤ کہ کیا دین کے ضعف کا کوئی علاج کرنا چاہئے یا نہیں؟ پھر انہیں سمجھاؤ کہ اگر تم کہو کہ ( نَعُوذُ بِالله ) یہ حدیثیں جھوٹی ہیں جن میں مسیح کی آمد کا ذکر ہے تو ان مولویوں نے اتنا سچ کیسے بتادیا ؟ ان حدیثوں میں اتنا غیب بیان ہوا ہے کہ بنی اسرائیل کے ہزار سے زیادہ نبیوں نے بھی اتنی خبریں نہ دی تھیں۔کیا ان حدیثیں بیان کرنے والوں کو بنی اسرائیل کے نبیوں سے زیادہ غیب حاصل ہوتا تھا؟ گویا اُنہوں نے اس زمانے کے تمام حالات کا نقشہ اور فوٹو کھینچ کر رکھ دیا۔کیا اس قسم کا نقشہ اور فوٹو کھینچ لینا کذابوں اور جھوٹوں کا کام ہو سکتا ہے ؟ جن حدیثوں میں یہ خبریں بیان ہوئی تھیں جو اس زمانے میں پوری ہوئیں۔