خطبات محمود (جلد 27) — Page 613
*1946 613 خطبات محمود انہوں نے کہا کہ آج کوئی دو سوویں تاریخ ہے تو اس عورت نے سمجھا کہ حافظ مذاق کرتا ہے۔اس نے کہا تمہیں خدا کا خوف نہیں آتا کہ عورتوں سے مذاق کرتے ہو۔میں ابھی جا کر چودھری کو بتاتی ہوں۔حافظ یہ دھمکی سن کر ڈر گئے اور بولے کہ مائی خدا کا خوف کر کے ہی میں نے دو سوویں تاریخ کہا ہے ورنہ گھڑے کے کنکروں سے تو پتہ چلتا ہے کہ کئی ہزارویں تاریخ ہے۔معلوم ہوتا ہے یہی حال اس حدیث سنانے والے راوی کا تھا کہ جب اس تک یہ روایت آئی کہ رسول کریم صلی اللہ نیلم نے فرمایا ہے کہ لاکھوں روپیہ تک گائے کا سر فروخت ہو گا تو وہ ڈر گیا اور خیال کیا کہ لاکھوں روپیہ تو کوئی نہ مانے گا اس لئے بہتر ہے کہ ہزاروں ہی بتا دیں۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس زمانہ میں جبکہ قیمتیں گر چکی تھیں ہزاروں نہیں بلکہ کروڑوں روپیہ میں گائے کا سر فروخت ہو تا تھا اور اس نکتہ کو نہ سمجھتے ہوئے اس زمانہ میں جو ایک اخبارات پڑھنے والا آدمی دھوکے میں آگیا اور دو ہزار روپیہ ضائع کر دیئے اور قیمتیں اتنی گر گئیں کہ ایک پونڈ کی قیمت دس ارب روپے تک پہنچ گئی۔اور میرے جو چند لاکھ روپے بنک میں جمع تھے ان کی قیمت ایک روپے کے ہزارویں حصے سے بھی کم ہو گئی بلکہ مجھے تو اس روپے کے بدلے میں ایک پیسے دھیلے اور دمڑی کا سواں حصہ بھی نہ ملتا اور دمڑی کا سواں حصہ تو ہوتا ہی نہیں۔پس تم مخالف سے کہو کہ یہ خبریں اِس زمانہ کے لوگ چند سال پہلے بھی قیاس نہ کر سکتے تھے۔جھوٹوں اور دغابازوں کو کیسے معلوم ہوئیں۔یقین یہ خبریں عالم الغیب خدا نے رسول کریم صلی علیکم سے کہی تھیں۔اور جب رسول کریم صلی الی یم کی حدیثوں کی باقی تمام خبریں پوری ہو گئیں تو مسیح کی آمد کی خبر کیوں پوری نہ ہوئی؟ اور جب یہ تمام پیشگوئیاں اتنے عظیم الشان رنگ میں پوری ہوئیں تو تم کس طرح کہہ سکتے ہو کہ یہ خبریں بیان کرنے والے جھوٹے تھے۔جن کی حدیثوں میں یہ خبریں بیان ہوئی ہیں انہی حدیثوں میں مسیح کی آمد کی خبریں بھی ہیں۔اگر تمہارا مخالف ایک خبر کو جھوٹا کہے گا تو اسے باقی سب کو بھی جھوٹا کہنا پڑے گا اور (نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ ذَالِكَ) امام بخاری رَحْمَةُ اللهِ عَلَيْهِ سے لے کر ایک ادنیٰ سے ادنیٰ درجے والے راوی کو جھوٹا کہنا پڑے گا۔یہ اتنا عظیم الشان ثبوت ہے کہ کوئی اس کو ماننے سے گریز نہیں کر سکتا۔میں نے تو مثال کے طور پر صرف چند باتیں بیان کر دی ہیں ورنہ سینکڑوں کی تعداد میں ایسی خبریں ہیں جو