خطبات محمود (جلد 27) — Page 595
*1946 595 خطبات محمود چدر کو کھینچتا ہے اور کوئی اس کے پاجامہ پر ہنسی اڑاتا ہے۔اب ہندوستان میں انگریزی حکومت نہیں بلکہ ہندوستانیوں کی اپنی حکومت قائم کی جارہی ہے۔گو پورے طور پر ابھی قائم نہیں ہوئی۔اس لئے اس وقت کی باہمی چھیڑ چھاڑ معمولی نہیں ہو سکتی۔انگریزوں کے وقت جو چھیڑ چھاڑ تھی وہ بہت محدود تھی اور چند لاکھ کے خلاف چھیڑ چھاڑ تھی۔مگر اب یہ چھیڑ چھاڑ چند لاکھ کے خلاف نہیں بلکہ کروڑوں ایک طرف ہیں اور کروڑوں کروڑ ایک طرف۔اس لئے اگر بر وقت انسداد نہ کیا گیا تو یہ لڑائی شہروں تک محدود نہیں رہ سکتی بلکہ خطرہ ہے کہ اب وہ ہر قصبہ ، ہر گاؤں، ہر محلہ اور ہر گلی میں نہ پہنچ جائے اور اس طرح کسی جگہ کی چھیڑ چھاڑ محدود نہیں رہ سکتی۔اس مضمون کے بہت سے پہلو ایسے بھی ہیں جو مزید توجہ چاہتے ہیں مگر میں اس خطبہ کو محدود رکھنا چاہتا ہوں۔اس لئے صرف اتنی بات پر ہی میں یہ خطبہ ختم کرتا ہوں کہ یہ وقت مسلمانوں کے لئے نہایت ہی نازک ہے۔ہمیں خدا تعالیٰ سے خاص طور پر دعائیں کرنی چاہئیں کہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کی پرانی غفلتیں معاف کرے، انہیں قرآن کریم کے احکام کے مطابق سة چلنے کی توفیق عطا فرمائے اور وہ کینہ اور کپٹ 5 اور دین سے نفرت اور محمد رسول اللہ صل الله یم اور قرآن کریم کی پیشگوئیوں سے استغناء جو اُن کے اندر پایا جاتا ہے ،اسے دور کرے۔اور انہیں اسلام پر صحیح طور پر چلنے کی توفیق عطا کرے تاکہ ہندوستان میں مسلمانوں کا مستقبل وہ نہ ہو جو سپین میں ہوا۔بلکہ ہندوستان اسلام کے بڑھنے اور پھلنے اور پھولنے کے لئے ایک گلشن اور چمن ثابت ہو اور اسلام اس ملک میں زیادہ سے زیادہ ترقی کرے۔اور ہم اللہ تعالیٰ سے یہی امید رکھتے ہیں کہ ایسا ہی ہو گا اور ہندوستان اسلام کی ترقی اور اس کی نشاۃ ثانیہ میں بہت بڑا حصہ لینے والا ثابت ہو گا کیونکہ حضرت مسیح موعود کا الہام ہے ” رسول اللہ صلی اللہ کی پناہ گزیں ہوئے قلعہ ہند میں۔“6 (الفضل 25نومبر 1946ء) سة 1: ایس او ایس (S۔O۔S) اچانک مدد حاصل کرنے والا سلکی نظام ( یعنی وائرلیس) 2 نوا کھلی (Noakhali) موجودہ بنگلہ دیش میں چٹا گانگ ڈویژن کا ایک شہر۔آبادی تقریباً 30,72,000 چمپارن (Champaran) ہندوستان کے صوبہ بہار میں واقع ایک تاریخی علاقہ۔