خطبات محمود (جلد 27) — Page 576
*1946 576 خطبات محمود وہ یہ نہیں سمجھتا کہ اسے ضرورت ہو گی لوگوں کے تعاون کی، اسے ضرورت ہو گی مشکلات میں صحیح مشورہ حاصل کرنے کی، اُسے ضرورت ہو گی اپنے کام کو وسیع کرنے کی، اسے ضرورت ہو گی دشمنوں کا مقابلہ کرنے کی۔اور یہ چیزیں اسے حاصل نہیں ہو سکتیں جب تک وہ بار بار اور بار بار مرکز کو اپنے حالات نہیں بتاتا اور بار بار اس کی راہنمائی حاصل نہیں کرتا۔وہ خیال کرتا ہے کہ میر الیمپ روشن ہے مجھے کسی سے تیل لینے کی کیا ضرورت ہے۔حالانکہ تمہارا بلب خواہ کس قدر روشن ہو۔اگر اس کا سوئچ دبا دیا جائے یعنی اس کا مرکز سے تعلق کٹ جائے تو اس کی تمام روشنی ایک آن میں جاتی رہے گی اور اُس وقت تک روشنی اس میں واپس نہیں آئے گی جب تک اُس کا مرکز سے تعلق قائم نہیں ہو جاتا۔پس تمہارا یہ کام نہیں کہ تم اس امر کی طرف نگاہ رکھو کہ تمہارا بلب کتنا روشن ہے بلکہ تمہارا کام یہ ہے کہ تم ہر وقت دیکھتے رہو کہ تمہار ا بجلی کے مرکز سے کتنا تعلق ہے۔اگر تمہارا مرکز سے تعلق قائم نہ رہا تو بلب چاہے کتنی پاور کا ہو وہ کبھی روشن نہیں ہو سکے گا۔اسی طرح اگر اپنی لالٹین میں تیل ڈلوا کر کوئی شخص سمجھتا ہے کہ اب یہ تیل ہمیشہ کے لئے کام آئے گا تو یہ اس کی نادانی اور حماقت ہو گی۔اگر آج اسے تیل کی ضرورت نہیں تو کل اسے ضرورت محسوس ہو گی اور وہ اس بات کا محتاج ہو گا کہ تیل والے کے پاس جائے اور اس سے تیل کے لئے التجا کرے۔اگر وہ تیل والے کے پاس نہیں جائے گا تو لالٹین کے ہوتے ہوئے وہ اندھیرے میں رہے گا۔یہی اصول روحانی دنیا میں جاری ہے مگر ہمارے مبلغ اور سیکرٹری یہ سمجھتے ہیں کہ اگر انہوں نے اپنی لالٹینوں میں ایک دفعہ تیل ڈلوالیا ہے تو وہ تیل ان کے لئے ہمیشہ کام آئے گا حالانکہ جب تک وہ بار بار تیل نہیں ڈلوائیں گے ان کے لیمپ روشن نہیں رہ سکیں گے۔اول تو روحانی لیمپ تیل کی موجودگی میں بھی بجھ جاتے ہیں۔اگر مرکز روحانی سے انسان کا تعلق نہ ہو۔لیکن بفرض محال اگر لیمپ جلا بھی تو کتنی دیر جلے گا۔اس کا جلنا بہر حال عارضی ہو گا اور دو چار گھنٹوں یا دس بارہ گھنٹوں کے بعد جب تیل ختم ہو جائے گا اُس کے لئے سوائے اندھیرے اور تاریکی کے اور کچھ نہیں ہو گا۔پس جماعتوں کے اندر یہ احساس ہونا چاہئے کہ انہیں خدا نے کس غرض کے لئے قائم کیا ہے اور سیکر ٹریوں کو بار بار قادیان آنا چاہئے اور بار بار ناظر دعوۃ یا وکیل التبشیر یا مجھ سے مشورہ حاصل کرنا چاہئے۔اور ایک ایک