خطبات محمود (جلد 27) — Page 545
*1946 545 خطبات محمود اور تیسری انجمن کسی اور کام کے لئے کھڑی ہوتی ہے جس کا اپنی ذات میں فائدہ ہوتا ہے تب بے شک ان کا تعدد بھی مفید نتائج پیدا کرنے والا ہو سکتا ہے۔پس ہمیں غور کرنا چاہئے کہ ہماری جماعت دنیا میں کس لئے قائم ہوئی ہے۔کیا اس لئے قائم ہوئی ہے کہ مسلمانوں کے بہتر فرقے کم تھے اور وہ پوری طرح آپس میں لڑتے جھگڑتے نہیں تھے اللہ تعالیٰ نے چاہا کہ ایک تہترواں فرقہ قائم کر دے تاکہ وہ خوب لڑیں اور اللہ تعالیٰ ان کا تماشا دیکھے؟ اللہ تعالیٰ کی ذات اس قسم کا تماشا دیکھنے سے بہت بالا ہے۔وہ کبھی پسند نہیں کرتا کہ اُس کے بندے آپس میں لڑیں اور ایک دوسرے سے جھگڑ اجاری رکھیں یا وہ لڑائی جھگڑا کریں تو خود تماشا دیکھنے لگ جائے۔یہ ذلیل ترین انسان کا کام ہوا کرتا ہے۔شریف انسان بھی ایسا نہیں کیا کرتے۔اور خدا تعالیٰ کی ذات تو اس قسم کی باتوں سے بہت ارفع اور بالا ہے۔اس کے متعلق یہ خیال بھی نہیں کیا جاسکتا کہ اس نے ایک نئی جماعت کا قیام محض فرقوں کی تعداد بڑھانے یا لڑائی جھگڑے میں اضافہ کرنے کی نیت سے کیا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہماری جماعت کو محض اس لئے قائم کیا ہے کہ وہ اخلاق حسنہ دنیا میں قائم کرے جو آج ہمیں معدوم نظر آتے ہیں۔یہی غرض میری تحریک جدید کے قیام سے تھی۔چنانچہ تحریک جدید کے جو اصول مقرر کئے گئے تھے اُن میں جہاں یہ امر مد نظر رکھا گیا تھا کہ جماعت اپنے حالات کو بدلنے کی کوشش کرے وہاں اس امر کو بھی مد نظر رکھا گیا تھا کہ ان اصول پر عمل کرنے کے نتیجہ میں جماعت کو اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی کے لئے زیادہ سے زیادہ سامان میسر آسکیں۔اسی طرح تحریک جدید کے اصول میں اس امر کو بھی مد نظر رکھا گیا تھا کہ امراء اور غرباء میں جو خلیج حائل ہے اور جس کی بناء پر امراء میں کبر اور خود پسندی اور بڑائی اور احسان جتانے کا مادہ پایا جاتا ہے اس کو دور کیا جائے۔چنانچہ تحریک جدید میں کچھ قواعد مقرر کئے گئے جن کی غرض جماعت کے لوگوں میں اس قسم کا تغیر پیدا کرنا تھا۔مثلاً کہا گیا کہ سب دوست یہ عہد کر لیں کہ وہ آئندہ ہمیشہ ایک کھانا کھائیں گے، سینما نہیں دیکھیں گے۔شادی بیاہ میں جہاں تک ہو سکا اپنی حیثیت کے مطابق بلکہ اس سے بھی کم خرچ کریں گے اور اس طرح اپنے روپیہ کو بچا کر اسلام