خطبات محمود (جلد 27) — Page 544
*1946 544 خطبات محمود اللہ تعالیٰ کی طرف سے میرے سپرد کیا گیا ہے میں کس طرح سر انجام دے سکوں گا۔ایسانہ ہو کہ مجھ سے کوئی غلطی ہو جائے اور میں بجائے اللہ تعالیٰ کا انعام پانے کے اس کی نگاہ میں مجرم بن جاؤں۔چنانچہ آپ اسی گھبراہٹ کی حالت میں اپنے گھر آئے اور اپنی بیوی حضرت خدیجہ سے ذکر کیا کہ اِس اِس طرح خدا تعالیٰ کا کلام مجھ پر نازل ہوا ہے اور پھر فرمایا لَقَدْ خَشِيْتُ عَلَى نفین 3 خدا تعالیٰ کی بات پر تو مجھے یقین ہے لیکن میں ڈرتا ہوں کہ کوئی غلطی نہ کر بیٹھوں۔اس پر حضرت خدیجہ نے آپ کو تسلی دی اور جو باتیں انہوں نے آپ کی تسلی کے لئے کہیں ان میں ایک بات یہ بھی تھی کہ تَكْسِبُ الْمَعْدُومَ 4 وہ اخلاق فاضلہ جو دنیا سے معدوم ہو چکے تھے آپ اُن کو قائم کر رہے ہیں۔پھر کس طرح ہو سکتا ہے کہ خدا آپ کو ضائع کر دے؟ وہ آپ کو کبھی ضائع نہیں کرے گا۔اس لئے کہ جو متاع دنیا سے کھوئی گئی تھی، جو خدا تعالیٰ کے قائم کردہ مذاہب میں بھی نہیں رہی تھی اُسے آپ واپس لا رہے ہیں۔اس لئے یہ نہیں ہو سکتا کہ آپ تباہ ہو جائیں کیونکہ اگر آپ تباہ ہو جائیں تو ساتھ ہی وہ چیز بھی تباہ ہو جائے گی جس کی دنیا کو اس وقت تلاش ہے۔پس ضرور ہے کہ وہ آپ کے وجود کو قائم رکھے کیونکہ بغیر آپ کے وجود کے وہ اخلاق فاضلہ قائم نہیں ہو سکتے جن کا دنیا میں قائم ہونا ضروری ہے۔اس لئے خدا آپ کی خود حفاظت کرے گا اور وہ آپ کو ضائع نہیں ہونے دے گا۔یہی نکتہ ہے جو ہر زندہ جماعت کو اپنے مد نظر رکھنا چاہئے۔اللہ تعالیٰ کی طرف سے جب بھی کوئی جماعت قائم کی جاتی ہے صرف اس لئے قائم کی جاتی ہے کہ وہ تکیبُ الْمَعْدُومَ کے مطابق اُن اخلاق فاضلہ کو جو دنیا سے مٹ چکے ہوں پھر دوبارہ قائم کرے اور پھر نیکی اور تقویٰ کی رو دنیا میں چلا دے۔جب تک کوئی جماعت اس کام کو سر انجام نہیں دیتی اُس وقت تک اُس کا وجود دنیا کے لئے قطعاً کسی فائدہ کا موجب نہیں ہو سکتا۔آخر جماعتیں دنیا میں پہلے بھی کم نہیں تھیں۔ان جماعتوں کے ساتھ ایک اور جماعت کا قیام اپنے اندر کیا حکمت رکھتا تھا۔اگر کوئی اہم مقصد سامنے نہ ہو تو ایک کی جگہ دو انجمنوں کا قیام یادو کی جگہ تین انجمنوں کا قیام اسلام اور مسلمانوں کے لئے مضر تو ہو سکتا ہے مفید نہیں ہو سکتا۔ہاں اگر دوسری انجمن کسی اور کام کے لئے کھڑی ہوتی ہے جو اپنی ذات میں مفید ہو تا ہے