خطبات محمود (جلد 27) — Page 540
*1946 540 خطبات محمود ہوتے ہیں۔غالباً اطباء نے یہ سمجھا ہے کہ اگر وہ اپنے نسخہ کی قیمت نہ بڑھائیں گے تو لوگ کہیں گے انہیں آتا کچھ نہیں۔اسی لئے پہلے تو وہ ستی دوائیں دیتے تھے مگر اب انہوں نے بھی دوائیں نہایت گراں قیمت پر فروخت کرنی شروع کر دی ہیں حالانکہ اگر وہ غور سے کام لیں تو جن دواؤں کا وہ گراں قیمت پر انتظام کرتے ہیں اسی قسم کے فوائد رکھنے والی دوائیں وہ سستے داموں پر بھی لوگوں کو مہیا کر سکتے ہیں۔بہر حال میں ذکر یہ کر رہا تھا کہ علاج ایک ایسی چیز ہے جس میں کوئی کمی نہیں کی جاسکتی جب تک خود ڈاکٹر کمی نہ کرے۔مثلاً ڈاکٹر یہ دیکھ لے کہ اس شخص سورو ں کے باپ کی آٹھ سو روپیہ آمد تھی اور اس کی سو روپیہ آمد ہے اس لئے میں اگر اس کے باپ کو ایک سو روپیہ کا نسخہ لکھ کر دیا کرتا تھا تو اس کو دو آنے کا نسخہ لکھ کر دوں۔ہمارے دادا کا قصہ مشہور ہے۔ایک دفعہ مہاراجہ رنجیت سنگھ صاحب سری گوبند پور میں شکار کے لئے آئے۔ان کے ساتھ ایک باز والا تھا جسے اتفاقآًنزلہ ہو گیا۔ہمارے دادا طب بھی کرتے تھے۔دلّی میں انہوں نے باقاعدہ یہ علم حاصل کیا تھا اور گو انہوں نے علم طب کو پیشہ کے طور پر کبھی اختیار نہیں کیا لیکن مخلوق کی خدمت اور لوگوں کی خیر خواہی کے لئے اس فن سے بھی کام لیا کرتے تھے۔جب باز والے کو نزلہ ہوا تو وہ گھبر ایا کہ کل شکار کا دن ہے اگر میں زیادہ بیمار ہو گیا تو مہاراجہ صاحب ناراض ہوں گے کہ عین کام کے دن بیمار ہو گیا۔چنانچہ وہ ہمارے دادا کے پاس آیا اور علاج کی درخواست کی۔آپ نے اس کے لئے نسخہ لکھا جو ایک پائی میں تیار ہو گیا اور اس کے استعمال سے اسے فوری طور پر افاقہ ہو گیا۔اُسی دن مہاراجہ رنجیت سنگھ صاحب کے لڑکے کو بھی نزلہ ہو گیا۔کسی نے ذکر کیا کہ باز والے کو یہی شکایت ہو گئی تھی جس پر مرزا صاحب نے اُسے ایک نسخہ لکھ کر دیا اور اسے فوراً آرام آگیا۔شہزادہ نے ہمارے دادا کو بلوایا اور اپنے نزلہ کا ذکر کیا۔انہوں نے ایک نسخہ لکھ کر دے دیا۔جب نسخہ بنوانے کے لئے پنساری کے پاس بھیجا گیا تو اس نے بتایا کہ اس پر پانچ سو روپیہ خرچ آئے گا۔شہزادہ یہ سن کر بہت ناراض ہوا۔آخر معمولی زمینداروں سے وہ یکدم بادشاہ بن گئے تھے۔اُن کے لئے یہ بات حیرت کا موجب ہوئی کہ ایک ہی مرض کا نسخہ لکھوایا گیا تھا مگر ایک شخص کو تو انہوں نے ایسا نسخہ لکھ کر دے دیا جس پر ایک پائی خرچ آئی اور ہمیں ایک ایسا نسخہ لکھ کر دیا جس پر پانچ سو روپیہ خرچ