خطبات محمود (جلد 27) — Page 535
*1946 535 خطبات محمود گفتگو کرنے والوں سے صاف کہہ دیا کہ یہ ہمارا فیصلہ نہیں۔گاندھی جی کا فیصلہ ہے اور ہم گاندھی جی کا یہ فیصلہ ماننے کو تیار نہیں۔جب حالات یہ رنگ اختیار کر گئے تو مسٹر جناح نے نہایت ہوشیاری اور عقلمندی سے کام لیتے ہوئے وائسرائے کو لکھ دیا کہ کانگرس سے تو ہمارا فیصلہ نہیں ہو سکا لیکن ہم آپ کی پیشکش کو قبول کرتے ہوئے حکومت میں شامل ہوتے ہیں۔اس طرح کام بھی ہو گیا اور بات بھی بن گئی اور مسٹر گاندھی اس معاملہ میں خالی گاندھی بن کے رہ گئے اور اللہ تعالیٰ نے ہماری غرض بھی پوری کر دی۔خدا تعالیٰ کی قدرت ہے ہمارا د ہلی سے جمعہ کو چلنے کا ارادہ تھا اور ہم سیٹیں بھی بُک کر اچکے تھے مگر بدھ کے دن ہمیں معلوم ہوا کہ مصالحت کی گفتگو میں خرابی پید اہو رہی ہے۔چونکہ ہمارے تعلقات تمام لوگوں کے ساتھ تھے اس لئے قبل از وقت ہمیں حالات کا علم ہو جاتا تھا۔جب مجھے معلوم ہوا کہ کام بگڑ رہا ہے تو میں نے پھر دوستوں کو بلایا اور ان سے مشورہ لیا اور انہیں کہا کہ ہم اتنی مدت یہاں رہے ہیں۔اب ہمیں پیر تک اور ٹھہر جانا چاہئے۔پہلے تو اتوار تک ٹھہرنے کا ارادہ تھا لیکن معلوم ہوا کہ اتوار کو گاڑی ریز رو نہیں ہو سکتی اس لئے ہم نے پیر کے دن چلنے کا فیصلہ کیا اور عین پیر کے دن صبح کے وقت فیصلہ ہو گیا اور ہم خدا تعالیٰ کے فضل سے اس جھگڑے کو نپٹا کر اپنے گھر واپس آئے۔اس سفر میں یہ ایک نہایت ہی خوشی کی بات مجھے معلوم ہوئی ہے کہ وہ مسلمان جو اپنے تفرقہ اور نکما پن کی وجہ سے مشہور ہیں اُن میں بھی اب اخلاص اور بیداری پیدا ہو چکی ہے اور وہ اپنے فرائض کو سمجھنے لگ گئے ہیں۔چنانچہ نواب صاحب چھتاری، سر آغا خاں اور سر سلطان احمد نے نہایت بے نفسی کے ساتھ اس موقع پر کام کیا ہے۔میں سمجھتا ہوں اگر ان کی بے نفسی اور مسلمانوں کی خیر خواہی کا حال پبلک کو معلوم ہو جائے تو وہ ان کی قدر کئے بغیر نہ رہے۔پھر سب سے زیادہ کام نواب صاحب بھوپال نے کیا۔یہ الگ بات ہے کہ اسلامی تعلیم کی رو سے سب انسان برابر ہیں، کوئی چھوٹا بڑا نہیں لیکن سوال یہ ہے کہ جن لوگوں کی دیر سے عزتیں قائم ہو چکی ہیں وہ معمولی کام کرنے سے بھی گھبراتے ہیں لیکن نواب صاحب نے باوجود ایک مقتدر ریاست کا نواب ہونے کے جو ادنیٰ سے ادنی کام بھی ان کو کرنا پڑا انہوں نے کیا۔یہاں تک کہ منتیں بھی کیں۔وہ گاندھی جی کے پاس گئے اور بھنگی کالونی میں ان سے ملاقات کی۔پہلی ملاقات