خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 532 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 532

*1946 532 خطبات محمود لائبریری کو جلا کر یہ سمجھ لیا کہ انہوں نے بڑا تیر مارا ہے اور یہ خیال کر لیا کہ انہوں نے مسلمانوں سے بدلہ لے لیا ہے۔اس سے پتہ لگتا ہے کہ جب اس قسم کے اختلاف پید اہو جائیں تو انسانی عقل ماری جاتی ہے۔اور سیاہ اور سفید میں فرق کرنا اس کے لئے مشکل ہو جاتا ہے )۔غرض گاندھی جی پر میں نے یہ بات واضح کی اور انہیں کہا کہ آپ کو اس بارہ میں کچھ کرنا چاہئے اور صلح کی کوشش کرنی چاہئے۔گاندھی جی نے اس کا جو جواب دیا وہ یہ تھا کہ یہ کام آپ ہی کر سکتے ہیں میں نہیں کر سکتا۔میں تو صرف گاندھی ہوں یعنی میں تو صرف ایک فرد ہوں اور آپ ایک جماعت کے لیڈر ہیں۔میں نے کہا میں تو صرف پانچ سات لاکھ کا لیڈر ہوں اور ہندوستان میں پانچ سات لاکھ آدمی کیا کر سکتا ہے مگر انہوں نے اصرار کیا اور کہا کہ جو کچھ کر سکتے ہیں آپ ہی کر سکتے ہیں میں نہیں کر سکتا۔جب میں نے دیکھا کہ گاندھی جی اس طرف نہیں آتے تو میں نے اس بات کو چھوڑ دیا اور پھر میں انہیں دوسری نصیحتیں کرتا رہا جن کی خدا نے مجھے اس وقت توفیق عطا فرمائی۔میں اس موقع پر صرف یہ بتانا چاہتا ہوں کہ بعض دفعہ ایک چھوٹی سی بات ہوتی ہے مگر وہ خدا تعالیٰ کے ہاں قبول ہو جاتی ہے۔جب رسول کریم صلی للی کی کے بعد عرب اور ایران میں لڑائی چھڑی تو اس وقت ایران کے بادشاہ نے اپنے بعض رؤساء سے کہا کہ عرب ایک چھوٹا سا غیر آباد جزیرہ ہے اور وہاں کے باشندے متفرق اقوام میں بٹے ہوئے ہیں۔یہ لوگ کس طرح ہمارے ملک پر حملہ کر کے چڑھ آئے ہیں؟ لوگوں نے کہا اس قوم میں نئی بیداری پیدا ہوئی ہے اور اس وجہ سے اس میں جوش پایا جاتا ہے۔اس نے کہا کہ ان لوگوں کو کچھ دے دلا کر واپس کر دینا چاہئے۔چنانچہ اس نے اسلامی جرنیل کو لکھا کہ تم ایک وفد ہمارے پاس بھیج دو، ہم اس سے گفتگو کرنا چاہتے ہیں۔اس نے رسول کریم صلی علیم کے ایک صحابی اور بعض دوسرے آدمیوں پر مشتمل ایک وفد بنا کر شاہ ایران کے دربار میں بھجوا دیا۔بادشاہ نے ان سے کہا کہ تم نے یہ کیا شورش برپا کر رکھی ہے۔بہتر یہ ہے کہ کچھ روپیہ لے لو اور واپس چلے جاؤ۔انہوں نے کہا یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ ہم روپیہ لے کر واپس چلے جائیں۔اس کی حماقت دیکھو جو قوم اس کے ملک پر چڑھ کر آئی تھی اس قوم کے متعلق اس نے یہ فیصلہ کیا کہ دو دو اشرفیاں سپاہیوں کو اور دس دس اشرفیاں افسروں کو دے کر رخصت کر دیا جائے۔