خطبات محمود (جلد 27) — Page 508
*1946 508 خطبات محمود بیسیوں سالوں کے لئے ملک کی حالت قابل رحم ہو جائے گی۔دعاؤں سے علاوہ ان کی قبولیت کے ان کا ایک نفسیاتی اثر یہ بھی ہوتا ہے کہ انسان بُرے کاموں سے رُکنے کی کوشش کرتا ہے۔فرض کرو ایک شخص یہ دعا کرتا ہے کہ یا الہی ! تو میرے دل کو صاف کر دے تو پہلا فائدہ جو اِس سے ہو گا وہ یہ ہے کہ اس کی دعا قبول ہو گی۔اس کے اندر نیکی اور تقویٰ پیدا ہو گا اور اس کا دل صاف ہو جائے گا۔علاوہ اس کے اسے یہ فائدہ بھی ہو گا کہ جب اس کے دل میں بد خیال پیدا ہو گا تو وہ اس کا مقابلہ کرے گا کیونکہ وہ خیال کرے گا کہ ابھی میں اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کر رہا تھا کہ تُو میرے دل کو پاک کر دے اور ابھی میں بد خیالوں کے پیچھے چل رہا ہوں۔یہ خیال آتے ہی وہ بدی کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہو جائے گا اور علاوہ آسمان کی مدد حاصل کرنے کے وہ بُرے خیالات کو خود بھی اپنے دل میں داخل ہونے سے روکے گا۔پس ہماری جماعت کا فرض ہے کہ وہ لوگوں میں دعا کی تحریک کرے۔اس طرح سے مسلمانوں اور ہندوؤں کے دلوں میں جو ایک دوسرے کے لئے بغض ہیں اور جو ایک دوسرے کی مخالفت ہے وہ کم ہو جائے گی۔اور جو لوگ یہ دعائیں کریں گے اُن پر جو اللہ تعالیٰ کا فضل نازل ہو گا وہ اس سے الگ ہو گا۔یہ دن ایسے ہیں کہ ہماری جماعت کو اپنے گرد و پیش کے لوگوں کو دن رات سمجھانا چاہئے کہ وہ کوئی شورش پیدا نہ کریں اور خود بھی امن سے رہیں اور دوسروں کو بھی امن سے رہنے دیں۔خصوصاًد ہلی والوں پر یہ ذمہ داری سب سے زیادہ عائد ہوتی ہے کیونکہ وہ ہندوستان کے پایہ تخت میں رہتے ہیں۔میں نے ایک نفسیاتی ماہر کی کتاب پڑھی ہے جس میں اس نے لکھا ہے کہ ہزاروں ہزار پھانسیوں کی وجہ یہ تھی کہ حج کے ناشتہ پر انڈے حد سے زیادہ اُبلے ہوئے تھے یا کسی چیز میں نمک زیادہ تھا یا کسی قسم کا کوئی اور معمولی نقص تھا۔جس کی وجہ سے باہر نکلتے وقت حج کی طبیعت میں انقباض اور غصہ پیدا ہو گیا تھا اور بجائے گھر کے لوگوں پر غصہ نکالنے کے اُس نے دوسروں پر جاکر غصہ نکالا۔تو طبائع کے چھوٹے چھوٹے اشتعال بعض دفعہ بہت بڑے فتنے پیدا کر دیتے ہیں کیونکہ ایک بات جب بار بار کسی کے کان میں ڈالی جائے تو آہستہ آہستہ وہ اثر کرنے لگ جاتی ہے۔خواہ اس میں حقیقت کچھ بھی نہ نہ ہو۔