خطبات محمود (جلد 27) — Page 486
*1946 486 خطبات محمود حق صلح کے وقت اپنے اوپر تسلیم نہیں کیا تھا۔بغیر سمجھوتہ کرنے کے ہر فریق یہ سمجھے گا کہ دوسرا فریق میرے حق سے دستبردار ہو گیا ہے۔اور کچھ دن بعد جب یہ غلطی ظاہر ہو گئی تو غصہ اور بھی بڑھ جائے گا۔میں نے اُس وقت کہا تھا کہ صرف بھائی بھائی کہہ کر صلح کرانے سے کچھ فائدہ نہیں ہو گا۔اصل صلح وہ ہے جو ایک دوسرے سے سمجھوتہ کر کے کی جائے اور یہی اسلام کی تعلیم ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ خداوہ ہے جو سب سے زیادہ برکتوں والا ہے اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرقان کو نازل کیا ہے جو حق و باطل میں امتیاز کر کے دکھا دیتا ہے اور ہر انسان اس کے ذریعہ صحیح نتیجہ پر پہنچ جاتا ہے۔اور وہ ہر چیز کے متعلق ایک صحیح فیصلہ دنیا کے سامنے پیش کرتا ہے کہ فلاں چیز حق اور صداقت ہے اُس کو قبول کرو۔اور فلاں چیز جھوٹ سے ملوث ہے اُس سے اجتناب کرو۔یہ ایسی کتاب ہے جو لفاظی سے پاک ہے۔اور یہ کتاب ہم نے اِس لئے اُتاری ہے تاکہ جھوٹ اور سچ میں امتیاز کر کے دکھادے کہ جھوٹ کیا ہے اور سچ کیا ہے اور انسان کو بتادے کہ کس موقع پر اسے کیسا کام کرنا چاہئے۔عیسائیت کی تعلیم کتنی معروف و مشہور ہے اور اپنی ظاہری شکل میں کتنی خوبصورت نظر آتی ہے۔مسیح نے کہا کہ اگر کوئی تیرے ایک گال پر تھپڑ مارے تو تو دوسرا گال بھی پھیر ے۔جب عیسائی پادری یا عیسائی مشنری چوک میں کھڑے ہو کر گرج گرج کر یہ تعلیم بیان کرتا ہے تو مسلمانوں میں سے کئی اچھے مسلمان بھی شرمندگی سے اپنی آنکھیں نیچی کر لیتے ہیں او روہاں سے بھاگ جاتے ہیں۔اور جو کمزور مسلمان ہوتے ہیں وہ کہتے ہیں۔سُبْحَانَ الله کیسی اچھی تعلیم ہے۔لیکن جب ان لفظوں پر عمل کا سوال آتا ہے تو وہ تعلیم غلط ثابت ہوتی ہے۔چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ وہی مسیح جس نے کہا تھا کہ اگر کوئی شخص تیرے ایک گال پر تھپڑ مارے تو تُو دوسرا گال پھیر دے۔اور اگر تجھے ایک میل بیگار لے جائے تو تو اس کے ساتھ دو میل تک جا۔اور اگر کوئی چادر چھینے تو تو اُ سے گرتہ بھی ساتھ دے دے۔3 اسی مسیح نے دوسرے موقع پر یہ بھی کہا تھا کہ میں صلح کرانے کے لئے نہیں آیا بلکہ میں تو تلوار چلانے آیا ہوں 4 بلکہ اپنے حواریوں سے کہا کہ اگر تمہارے پاس تلوار خریدنے کے لئے روپے نہ ہوں تو کپڑے بیچ کر تلوار خرید لو۔5 اب دیکھنا یہ ہے کہ عیسائی دنیا نے اس تعلیم پر کہ اگر کوئی تیرے ایک گال پر