خطبات محمود (جلد 27) — Page 485
*1946 485 خطبات محمود آپس میں صحیح سمجھوتہ نہ کیا جائے اور ایک دوسرے کے حق کی تعیین نہ کی جائے اُس وقت تک صرف بھائی بھائی کہنے سے صلح نہیں ہو سکتی۔کیونکہ ایک ماں کے جائے دو بھائیوں میں بھی لڑائی ہو جاتی ہے اور دونوں اپنی اپنی جائیدادیں تباہ کر دیتے ہیں بلکہ باپ بیٹوں میں بھی لڑائی ہو جاتی ہے۔آجکل ہندوؤں میں ایک شخص بہت بڑا دوا ساز ہے۔اس کی اور اس کے بیٹے کی آپس میں سخت لڑائی ہے۔باپ یہ لکھتا ہے کہ یہ دوائی ہماری ایجاد ہے اس کا راز کسی کو معلوم نہیں۔اگر کوئی ناخلف یہ کہتا ہے کہ مجھے اس کا راز معلوم ہے تو وہ جھوٹ بولتا ہے۔کسی شخص کو اس کا راز معلوم نہیں۔اور صاحبزادہ باپ کا نام نہیں لیتا۔اور وہ یہ اعلان کرتا ہے کہ وہ شخص غلط کہتا ہے جو یہ کہتا ہے کہ اس دوائی کا راز کسی کو معلوم نہیں۔ہم کو اس کا علم حاصل ہے اور میں سال سے ہم خود یہ دوائی تیار کرتے رہے ہیں۔ہم نے دیکھا کہ بعض لوگ جھوٹی دوائیں ملا ملا کر وہی دوائی تیار کرتے ہیں اور لوگوں کو اچھی چیز نہیں دیتے اس لئے ہم نے الگ کارخانہ قائم کر لیا ہے۔ہمارے کارخانہ کی دوائیں اصلی اجزاء سے تیار کی جاتی ہیں۔اب دیکھو وہ باپ ہے اور وہ بیٹا ہے۔جب باپ بیٹے میں حقوق کے مطالبے پر لڑائی ہو سکتی ہے تو بھائی بھائی میں کیوں لڑائی نہیں ہو سکتی۔پس بھائی بھائی کے لفظ سے کچھ عرصہ کے لئے تو اختلاف مٹ سکتا ہے لیکن پائیدار طور پر صلح نہیں ہو سکتی جب تک کہ ہر ایک کا حق تسلیم نہ کیا جائے۔اس موقع پر میں نے ایک تقریر کی تھی۔اُس میں میں نے کہا تھا کہ اب کانگرس نے بے شک یہ کہہ کر کہ ہندوستانی آپس میں بھائی بھائی ہیں ہندوؤں اور مسلمانوں کی صلح کرا دی ہے اور بظاہر کا نگرس کے کہنے پر مسلمانوں نے ضد چھوڑ دی ہے لیکن بغیر سمجھوتے کے اور بغیر ایک دوسرے کے حقوق کو تسلیم کرنے کے یہ صلح قائم نہیں رہ سکے گی اور یہ بھائی بھائی ہونے کا دعوی زیادہ دیر تک نہیں چل سکے گا۔کل کو جب حقوق کا سوال پیدا ہو گا تو دونوں طرف والے کہیں گے کہ کل صلح کر کے آج پھر لڑنے لگ گئے ہیں۔ہندو مسلمانوں کے متعلق کہیں گے کہ یہ بڑے بد دیانت اور جھوٹے ہیں، یہ صلح کرنے کے بعد پھر لڑائی کرتے ہیں، ہندوؤں نے مسلمانوں کا کوئی حق نہیں مانا تھا۔اور مسلمان ہندوؤں کے متعلق کہیں گے کہ ہندو بہت جھوٹے اور بد دیانت ہیں، صلح کرنے کے بعد پھر لڑائی کا سامان پیدا کرتے ہیں، مسلمانوں نے ہندوؤں کا کوئی