خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 40 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 40

*1946 40 خطبات محمود لیکن وہ یہی کہتا چلا جائے کہ میں نے ووٹ ضرور دینا ہے کیونکہ مجھے میرے امام کا حکم ہے کہ فلاں شخص کو ووٹ دو۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ باہر سے آنے والے دوستوں نے بھی قربانی کی ہے اور بعض کی قربانی واقع میں حیران کن ہے۔بعض دوست پونا سے ووٹ دینے کے لئے آئے، بعض کراچی اور بمبئی سے ووٹ دینے کے لئے آئے۔لیکن مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ قادیان کے مردوں نے قربانی کا اعلیٰ نمونہ پیش نہیں کیا۔حمید شاید لوگ سمجھتے ہوں کہ یہ دنیوی کام ہے اور دنیوی کاموں کے لئے قربانی کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی، قربانی تو دین کے لئے ہوتی ہے۔میں ایسے لوگوں سے پوچھتا ہوں کہ کیا ہمارے راستہ میں آجکل قرآن کریم کی آیات پڑھ کر روکیں ڈالی جاتی ہیں یا حدیث کے غلط معنے کر کے ہمارے راستہ میں روکیں ڈالی جاتی ہیں؟ ہمارے راستہ میں تو پبلک یا گورنمنٹ کے افسروں کو برانگیختہ کر کے روکیں پیدا کی جاتی ہیں اور دشمن اپنے منصوبوں کے ذریعے حکومت کے افسروں کو ساتھ ملا کر ہمارے مقاصد سے ہمیں دور رکھنا چاہتے ہیں۔پس اگر گور نمنٹ میں ہمارے نمائندے موجود ہوں جو ہماری آواز کو بلند کریں۔تو یہ روکیں کم ہونی شروع ہو جائیں گی۔ہمیں یہ دیکھنا چاہئے کہ آجکل دشمن کس راستہ سے حملہ کرتا ہے۔جس راستہ سے وہ حملہ کرے اسے مسدود کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔آخر وجہ کیا ہے کہ جو حق گورنمنٹ ہمیں خود دیتی ہے اس کو نہ لیا جائے۔قادیان سے بعض مُخْرَجِین نے ایک اشتہار نکالا ہے جس کے پڑھنے سے یوں معلوم ہوتا ہے کہ کسی بڑے مخلص احمدی نے اسے شائع کیا ہے۔اس اشتہار میں انہوں نے یہ لکھا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام نے اپنی جماعت کو سیاست میں حصہ لینے سے منع گو بعد کے دو دنوں میں اس کی تلافی انہوں نے کی اور سید محمود اللہ شاہ صاحب اور ان کے عملہ اور طلباء نے عورتوں کے انتظام میں جس قدر مردوں کی امداد کی ضرورت تھی اسے پورا کیا۔جَزَاهُمُ اللهُ اَحْسَنَ الْجَزَاء۔لیکن میرے دل پر پہلے دن کے پولنگ کے نقص اور ووٹوں کی تیاری کے نقص کا بہت اثر ہے۔