خطبات محمود (جلد 27) — Page 449
*1946 449 خطبات محمود خرچ کر کے قادیان آتے ہیں لیکن ہمارے لوگوں میں اتنا اخلاص اور اتنی محبت بھی نہیں ہوتی کہ وہ سارا مکان نہیں بلکہ مکان کا کچھ حصہ چند دنوں کے لئے خالی کر دیں کہ آؤ بھائی! ہمارے ہاں ٹھہر و اور پانچ سات دن ہمارے ہاں آرام کرو۔بجائے اس کے کہ کسی محبت کے جذبہ کا اظہار کریں اکثر لوگ جلسہ سالانہ کے منتظمین کو جواب دے دیتے ہیں کہ ہمارے پاس کسی مہمان کو ٹھہرانے کے لئے کوئی جگہ نہیں۔اور بعض کہہ دیتے ہیں کہ ہمارے اپنے رشتہ دار آنے والے ہیں۔کوئی کچھ بہانہ بناتا ہے اور کوئی کچھ بہانہ بناتا ہے۔مگر انصار کی قربانی کو دیکھو کہ انصار بار بار اصرار کرتے تھے کہ یا رَسُولَ اللہ ! یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ ہمارا بھائی ہماری جائیداد میں حصہ دار نہ ہو۔کیا بھائی حصہ نہیں لیا کرتے ؟ جب رسول کریم صلی ا ہم نے جائیدادیں تقسیم کرنے کی اجازت نہ دی تو انصار نے عرض کیا یا رَسُولَ اللہ ! کم سے کم اتنا تو ہونا چاہئے کہ ان جائیدادوں سے ہمیں جو آمد نیں ہیں آپ وہی ہمارے درمیان تقسیم کرا دیں۔لیکن رسول کریم ملی لی ایم نے اس کی بھی اجازت نہ دی۔جب اس کی بھی اجازت نہ ملی تو انصار کے اخلاص اور محبت نے ایک اور راہ نکال لی۔وہ یہ کہ ہر مرنے والا انصاری اپنے مہاجر بھائی کے حق میں وصیت کر جاتا تھا کہ عرب دستور میں جو حصہ بھائی کو ملتا ہے میری جائیداد میں سے اتنا حصہ میرے مہاجر بھائی کو دیا جائے اور یہ طریق جاری رہا تا وقتیکہ اللہ تعالیٰ نے اس طریق سے منع نہ فرما دیا۔انصار نے کوئی راہ مجبور کرنے کا چھوڑا نہیں۔اُنہوں نے ہر طرح کوشش کی کہ ہمارا مہاجر بھائی ہمارے مال اور ہماری جائیداد میں شریک ہو جائے۔پھر ہماری وطن کی قربانی بھی اس رنگ کی نہیں جیسی صحابہ کی تھی۔قادیان میں بے شک ایسے مخلصین بھی ہیں جن کو اپنے وطنوں میں ہر قسم کا آرام اور ہر قسم کی سہولت کے سامان میسر تھے اور وہاں ان کی زندگی بہت آرام سے گزرتی تھی۔لیکن انہوں نے وطن کو اس لئے چھوڑا تا کہ وہ خدا کے نبی کے جوار میں رہ کر زیادہ سے زیادہ اپنے نفسوں کو پاک کر سکیں۔لیکن ایک کافی تعداد ایسے لوگوں کی بھی ہے کہ جب ان سے پوچھا جائے کہ آپ نے کیوں ہجرت کی ؟ تو وہ جواب دیتے ہیں کہ وہاں بہت تکلیفیں تھیں اور ہمارے لئے ان تکالیف میں رہنا مشکل تھا، اس لئے ہجرت کرلی ہے۔یا بعض لوگ یہ جواب دیں گے کہ وہاں ہمارے لئے گزارے کی