خطبات محمود (جلد 27) — Page 436
*1946 436 خطبات محمود ہو جائیں۔اور جب وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہام میں ” جے “ کا لفظ دیکھیں تو انہیں احمدیت کی طرف توجہ پیدا ہو۔آپ کے الہامات میں سے ایک الہام ہندوستان کے متعلق یہ بھی ہے کہ "رسول اللہ صلی الله یم پناہ گزیں ہوئے قلعہ ہند میں 7 معلوم ہوتا ہے کہ ہندوستان کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی عزت کا مقام حاصل ہونے والا ہے اور حقیقت یہ ہے کہ باقی اسلامی دنیا میں سے اس وقت ہندوستان ہی ایسی جگہ ہے جہاں اسلام ظاہری طور پر موجود ہے۔احمدیت اور غیر احمدیت کے سوال کو جانے دو۔جہاں تک رسمی اسلام کا سوال ہے ہندوستان میں مکہ اور مدینہ سے بھی زیادہ رسمی طور پر اسلام موجود ہے۔میں دیکھتا ہوں کہ مکہ مدینہ جانے والوں میں سے کئی لوگ وہاں سے دہر یہ ہو کر لوٹتے ہیں کیونکہ جب یہ لوگ مکہ مدینہ جاتے ہیں تو اپنے دلوں میں بہت نیکی اور تقویٰ کا تصور لے کر جاتے ہیں کہ وہاں کے لوگ بہت فرشتہ سیرت ہوں گے لیکن جب وہاں کے لوگوں کا بُر انمونہ دیکھتے ہیں تو جلد ہی ٹھو کر کھا جاتے ہیں۔وہ لوگ یہ نہیں سوچتے کہ ان لوگوں پر تیرہ سو سال کا عرصہ گزر چکا ہے اور اب ان کے پاس اصل اسلام نہیں رہا۔یہ تو ان کی بگڑی ہوئی حالت ہے۔اس بات کو نہ سمجھنے کی وجہ سے بعض لوگ اپنی حالت کو درست کرنے کی بجائے خراب کر کے آتے ہیں اور نیک دل ہونے کی بجائے پہلے سے بھی زیادہ سنگدل ہو کر واپس آتے ہیں۔ہمارے ہاں ایک مثل مشہور ہے کہ کسی اسٹیشن پر ایک اندھی عورت گاڑی کے انتظار میں بیٹھی ہوئی تھی۔جب گاڑی آئی اور اُس میں سے مسافر اُترے تو کسی مسافر نے اس بیچاری بوڑھی عورت کی چادر اٹھالی۔چونکہ صبح کی نماز کا وقت ہونے والا تھا اس نے اپنی چادر تلاش کی لیکن نہ ملی۔تو اس نے بے ساختہ کہا۔بھائی حاجی ! مجھے اندھی کے پاس ایک ہی چادر تھی وہ واپس کر دو ورنہ میں سردی سے مر جاؤں گی۔ابھی وہ یہ بات کہہ ہی رہی تھی کہ ایک شخص نے چادر لا کر دے دی اور کہا یہ لے اپنی چادر۔لیکن تو مجھے یہ بتا کہ تجھے کس طرح علم ہوا کہ میں حاجی ہوں؟ اُس عورت نے جواب دیا کہ اس قسم کے سنگدلی کے کام حاجیوں کے سوا کون کر سکتا ہے۔اس سنگدلی کے پیدا ہونے کی وجہ یہی ہے کہ جب حاجی مکہ مدینہ جاتے ہیں اور وہاں کے لوگوں کی دنیا طلبی اور لوٹ مار کی حالت دیکھتے ہیں تو اُن کے ایمان متزلزل ہو جاتے ہیں کہ