خطبات محمود (جلد 27) — Page 428
*1946 428 خطبات محمود اور اخلاق سہولت کے ساتھ تبدیل نہیں ہوتے بلکہ ایک بہت بڑی کشمکش کے بعد حق غالب آتا ہے اور باطل اپنی پیٹھ پھیر کر بھاگتا ہے۔جب لوگ اپنے غلط عقیدوں پر پختہ ہو جاتے ہیں تو وہ ان کو چھوڑنے کے لئے تیار نہیں ہوتے۔ان غلط عقائد کو ان کے دلوں سے نکالنے کے لئے کافی وقت لگتا ہے۔معمولی معمولی عادتوں کو چھڑوانا بعض اوقات کئی سال لگا دیتا ہے۔تو غلط عقائد کس طرح یکدم بدلے جاسکتے ہیں۔بڑے آدمی تو ایک طرف رہے بچوں کی بد عادات کا دور کرنا ہی بہت مشکل ہو جاتا ہے اور اس کے لئے ایک بڑی جدوجہد کی ضرورت ہے۔جب بچوں کی بد عادات بہت مشکل سے چھڑائی جا سکتی ہیں تو کسی انسان کا یہ سمجھ لینا کہ وہ بڑے آدمیوں کے اعمال و عقائد کو آسانی سے تبدیل کرلے گا سراسر نادانی ہے۔اس کام کے لئے جب تک رات دن ایک نہ کئے جائیں کامیابی ناممکن ہے۔حضرت آدم سے لے کر آج تک ہم دیکھتے ہیں کہ دنیا کے لوگوں نے انبیاء کے پیغام کو آسانی اور سہولت سے نہیں مانا۔اگر وہ ماننے کے لئے تیار ہوتے تو اُن کو دکھ اور تکلیف کیوں دیتے۔حضرت آدم کو اُس مقام سے نکلنا پڑا جس کو قرآن کریم نے جنت کہا ہے اور انہیں پر مصائب زندگی کا سامنا کرنا پڑا۔حضرت نوح کو بھی دشمنوں کی تکلیفوں کی وجہ سے اپنا ملک چھوڑنا پڑا۔قوم کے اس سلوک کی وجہ سے اللہ تعالیٰ اُن پر طوفان لا یا اور اُن کو غرق کر دیا۔اگر وہ آسانی سے مان جاتے اور حضرت نوح سے اس قسم کا سلوک نہ کرتے تو اللہ تعالیٰ ان کو غرق نہ کرتا۔حضرت ابراہیم کے لئے اُن کے دشمنوں نے چتا تیار کی اور اُن کو آگ میں ڈال کر جلانے کا ارادہ کیا۔آخر حضرت ابراہیم کو ہجرت کرنی پڑی اور اپنے ملک کو خیر باد کہنا پڑا۔حضرت موسیٰ کی قوم نے فرعون کے ہاتھوں بہت سے دکھ اٹھائے۔آخر اپنے ملک کو چھوڑ کر نکل کھڑے ہوئے۔فرعون نے پیچھا کیا۔اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ اور آپ کے ساتھیوں کو نجات دی اور فرعون کو غرق کر دیا۔حضرت عیسی کے دشمنوں نے بھی وہی پہلی چال چلی۔حضرت عیسی کو صلیب پر لٹکا کر مارنے کی کوشش کی گئی، آپ کے حواریوں کو مارا پیٹا گیا اور بعض کو شہید کیا گیا اور ایک لمبے عرصے یعنی تین سو سال کے بعد جاکر آپ کی جماعت قائم ہوئی۔رسول کریم صلی الی ایم کو اور آپ کے ساتھیوں کو جو دکھ دیئے گئے تمام انبیاء کے مخالفین سے الله سة