خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 34 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 34

*1946 34 خطبات محمود بہت افسوس ہے کہ قادیان کے مردوں نے اعلیٰ نمونہ قربانی کا پیش نہیں کیا۔الیکشن کے پہلے ہی دن ستاسی سے لے کر ایک سو پچاسی تک ایسے آدمی ووٹ دینے کے لئے نہ آئے جو یہاں موجود تھے۔مگر اپنے کسی کام کے لئے ادھر اُدھر چلے گئے اور پھر وہ واپس وقت پر نہ پہنچے۔خلیل احمد صاحب ناصر جو واقف زندگی ہیں، قادیان کے الیکشن کے انچارج تھے اور ان کے سپرد یہ کام کیا گیا تھا لیکن مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ انہوں نے اس بارہ میں غفلت سے کام لیا۔ایسی غفلت اور سستی سے کہ ایک واقف سے اس کا ہزارواں حصہ بھی سستی کی امید نہیں کی جاسکتی۔جب پہلے دن میں نے پوچھا تو اس وقت تک ایسے نقشے بھی تیار نہیں تھے جن سے یہ پتہ لگ سکے کہ کتنے آدمی حاضر ہیں، کتنے غیر حاضر ہیں، کتنے فوت شدہ ہیں، کتنے باہر ہیں جن کے آنے کی امید ہے اور کتنے ایسے ہیں جن کے آنے کی کوئی امید نہیں۔مجھے جب وہ ملے اور میں نے ان سے پوچھا کہ ووٹوں میں اتنی غیر معمولی کمی کی وجہ کیا ہے ؟ مجھے نقشہ لا کر دکھاؤ۔تو انہوں نے کہا میں نقشہ لا کر دکھاتا ہوں۔پھر وہ گئے اور ایسے گئے کہ رات بھی گزر گئی اور اگلا دن بھی گزر گیا اور دوسرے دن شام کو نقشہ میرے پاس لائے اور وہ بھی آئندہ الیکشن کے متعلق اور وہ بھی ناقص۔چنانچہ ان کے حساب کے رو سے تین سو ووٹر گزر سکتا تھا مگر جب میاں بشیر احمد صاحب نے سب محلوں کے پریذیڈ نٹوں کو بلا کر ساری رات بیٹھ کر نقشہ تیار کروایا تو پانچ سو سے اوپر ووٹ موجود تھا اور وہ گزر بھی گیا۔اصل بات یہ تھی کہ نقشہ ان کے پاس تیار نہ تھا۔میرے پوچھنے پر وہ نقشہ تیار کیا گیا اور پھر وہ نقشہ اس دن کا تھا جس دن کا پولنگ (Polling) ابھی ہوا نہ تھا۔اور گزشتہ پولنگ (Polling) کا نقشہ پھر بھی تیار نہ ہوا تھا بلکہ جب میں نے اس طرف توجہ دلائی تو کہا گیا کہ وہ الیکشن کے بعد بنادیا جائے گا۔بھلا الیکشن کے بعد اس نقشہ کے تیار کرنے سے کیا فائدہ ہو سکتا تھا۔کہتے ہیں مشتے که بعد از جنگ یاد آید بر کله خو د باید کہ وہ گھونسہ جو جنگ کے بعد یاد آئے اپنے منہ پر مارنا چاہئے یعنی اگر بعد میں خیال آئے کہ میں دشمن کے فلاں جگہ گھونسہ مار تا تو وہ ہار جاتا تو ایسی صورت میں وہ گھونسہ خود اپنے کلہ پر مارنا چاہئے کہ کیوں اسے وہ تجویز وقت پر نہیں سو جھی۔لیکن مردوں کے مقابلہ میں