خطبات محمود (جلد 27) — Page 417
*1946 417 خطبات محمود جگہ ڈچ کا لفظ لکھ کر پھر کاٹا ہوا ہے اور اس کی جگہ فرانسیسی حکومت لکھا ہوا ہے۔اس نیک بخت کو اتنی بھی توفیق نہیں ملی کہ اخبار ہی پڑھ لیتا۔معلوم نہیں لکھتے وقت اس کا دل کس فکر میں تھا۔بس ایک ہی فکر ایسے لوگوں کو رہتا ہے کہ شام کو کیا کھانا ہے اور صبح کو کیا کھانا ہے۔ایک اور مضحکہ خیز بات لکھی ہے۔میں نے تو کہا تھا کہ اسلامی ممالک کو ایک دوسرے سے ہمدردی نہیں گو آب بین الا قوامی اتحاد کے لئے وہ عرب لیگ میں شامل ہو گئے ہیں لیکن ان میں سے کوئی ملک یہ نہیں چاہتا کہ وہ دوسرے ملک کے تابع اور ماتحت ہو۔شام یہ نہیں چاہتا کہ وہ مصر کے ماتحت ہو اور مصریہ نہیں چاہتا کہ وہ شام کے ماتحت ہو۔فلسطین اس بات کے لئے تیار نہیں کہ وہ شام کے ماتحت رہے اور شام اس بات کے لئے تیار نہیں کہ وہ فلسطین کے ساتھ مل کر رہے۔ایک مسلمان حکومت ٹرکی کی ہے وہ بھی ایک عرصے سے عربوں سے دلچسپی نہیں رکھتی۔بے شک پہلے عرب کا علاقہ ٹرکی کے ماتحت تھا لیکن جب سے عرب نے آزادی حاصل کی ہے اس وقت سے لڑکی کو عرب سے کوئی خاص دلچسپی نہیں رہی۔میں نے تو یہ کہا تھا لیکن خطبہ لکھنے والے نے لکھ دیا کہ میں نے کہا تھا کہ ایک ہزار سال پہلے ٹرکی کو عرب سے دلچسپی تھی۔ایک ہزار سال سے لڑکی کو عرب سے کوئی دلچسپی نہیں رہی یعنی ایک ہزار سال پہلے تو عرب حکومت اور ٹرکی کے تعلقات اچھے تھے۔اب ایک ہزار سال سے وہ تعلقات منقطع ہو گئے ہیں۔خطبہ لکھنے والے کو اتنا بھی علم نہیں کہ لڑکی کی حکومت کو قائم ہوئے چھ سو سال ہوئے ہیں۔اس سے پہلے وہاں پر عیسائی حکومت تھی۔تو ایک ہزار سال پہلے کس طرح اس حکومت کے تعلقات عربوں سے اچھے تھے۔اس سے زیادہ جہالت اور کیا ہو سکتی ہے۔بس اُس کا علم فَعَلَ فَعَلا فَعَلُوا پر آکر ختم ہو گیا ہے اور اُسے ضرورت نہیں محسوس ہوتی کہ وہ حکومتوں کے حالات اور اسلامی تاریخ کا مطالعہ کرے۔ایک بات میری طرف خطبہ میں یہ منسوب کی ہے کہ شمالی افریقہ کے مسلمان بالکل جاہل ہیں۔وہ اسلامی دنیا کو زیادہ فائدہ نہیں پہنچا سکتے۔حالانکہ میں نے مغربی افریقہ کہا تھا۔شمالی افریقہ کا ملک تو مصر ہے جو علم میں بہت بڑھا ہوا ہے اور ساری اسلامی دنیا سے زیادہ بیدار ملک ہے۔یہ خطبہ نویس مولوی صاحب تو وہاں کے علماء سے سالہا سال پڑھ کر بھی شاگردی کے مقام سے آگے نہیں نکل سکتے۔