خطبات محمود (جلد 27) — Page 33
*1946 33 خطبات محمود اس وقت کئی لوگ میرے پاس آئے جن میں سے بعض احمدی بھی تھے کہ آپ بھی ان کے اسرار جو آپ کے پاس ہیں ظاہر کر دیں تاکہ لوگوں کو معلوم ہو جائے کہ یہ لوگ احمدیوں سے کتنی امداد لیتے رہے ہیں اور اب کس طرح احسان فراموشی کا ثبوت دے رہے ہیں۔لیکن میں نے ان کو جواب دیا کہ جب تک وہ براہ راست ہماری خدمات کا انکار نہ کریں میں ان کے اسرار کو ظاہر کرنا پسند نہیں کرتا۔اس دوران میں بعض آدمیوں نے اعلان کر دیا کہ احمدیوں نے ہماری کوئی مدد نہیں کی۔تو میں نے بعض خطوط نکال کر اپنے دوستوں کو دے دیئے کہ یہ خطوط ان کے جواب میں شائع کر دو۔مگر بعض ایسے تھے جنہوں نے براہ راست کوئی ایسی بات نہیں کہی اس لئے میں نے ان میں سے کسی کے خطوط ظاہر نہیں کئے۔اور بعض آج تک ہمارے پاس محفوظ ہیں کیونکہ میں سمجھتا ہوں یہ بات وفاداری کے خلاف ہے۔اگر وہ شرافت کے معیار سے گر گئے ہیں تو ہمیں ان کی نقل نہیں کرنی چاہئے اور ہمیں شرافت کے معیار سے نہیں گرنا چاہئے۔اسی طرح اب بھی بعض سے گفتگوئیں ہوئی ہیں اور بعض سے تحریریں لی گئی ہیں لیکن وہی لوگ اب طرح طرح کی مخالفتیں کر رہے ہیں۔میں ان تمام باتوں کے باوجود الیکشن کے دوران میں کسی کے متعلق کوئی بات ظاہر کرنا نہیں چاہتا اور نہ سلسلہ کے کسی کار کن کو اس بات کی اجازت دیتا ہوں۔بے شک وہ ہم پر اعتراض کرتے جائیں، ہمیں بُرا بھلا کہتے رہیں کہ ایسے نالائقوں سے کسی نے کیا مدد لینی ہے۔کوئی عقل مند ایسے گردن زدنیوں سے مدد لینے کی کب خواہش رکھتا ہے مگر چونکہ اس وقت الیکشن میں ایسے لوگوں کو نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے اس کا لئے میں ان کے متعلق باوجود ان کی مخالفت کے کسی قسم کا ذکر کرنا نہیں چاہتا۔لیکن ایک حصہ ایسا بھی ہے جو ہماری جماعت سے اچھے تعلقات رکھتا ہے اور وہ احسان اور نیکی کی قدر کو جانتا ہے اس کے متعلق ہمیں کوئی شکایت نہیں۔اس کے بعد میں آج جماعت کو اس امر کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ قادیان میں الیکشن ختم ہو چکا ہے اور جو کچھ کیا جا سکتا تھا یا جو کچھ کیا جاسکا ہے وہ سب ہو چکا ہے۔اور جو بھی کمی کوشش میں رہ گئی ہے اب اس کا ازالہ نہیں ہو سکتا لیکن جو جد وجہد بھی ہوئی ہے اس کا میرے دل پر اثر پڑا ہے کہ مردوں نے عورتوں سے آدھا کام بھی نہیں کیا۔اور مجھے اس بات کا