خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 344 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 344

خطبات محمود 344 *1946 لیکن جہاں بچہ فطرت سے بولتا ہے وہاں بچے میں ایک پہلو نادانی کا بھی ہوتا ہے۔وہ بعض دفعہ رونا شروع کر دیتا ہے اور اپنی ماں یا ابا سے کہتا ہے کہ مجھے انگور لا دو یا مجھے انار لا دو اور وہ یہ بھی نہیں جانتا کہ اُن چیزوں کا موسم بھی ہے یا نہیں۔یا ایسی ضد کرنی شروع کر دیتا ہے کہ جو ماں باپ کی طاقت سے بھی باہر ہوتی ہے۔مجھے گھوڑالے دو اور وہ نہیں جانتا کہ میری ماں کی اتنی حیثیت ہے یا نہیں اور وہ کس طرح اور کتنی تنگی کے ساتھ گزارہ کر رہی ہے۔پس جہاں بچے میں یہ خوبی ہے کہ وہ فطرتی باتوں کا اظہار کرتا ہے وہاں اس میں یہ نقص بھی ہے کہ اس میں جہالت اور حماقت بھی پائی جاتی ہے۔بچے کی فطرت کی صفائی قابل قدر چیز ہے لیکن اگر اس کی نادانی اور حماقت کی باتوں پر عمل کیا جائے تو ایک دن میں دنیا کا بیڑا غرق ہو جائے۔بچپن کے بعد جوانی آتی ہے۔انسان کے اندر نئی نئی خواہشات اور نئی نئی امنگیں موجزن ہوتی ہیں اور عقل ابھی کامل طور پر رسم و رواج کی غلام نہیں بنی ہوتی۔جسم میں قوت ہوتی ہے اس لئے جو ان آدمی قربانیوں کے لئے جلدی آمادہ ہو جاتا ہے۔ابھی بیوی بچے نہیں ہوتے کہ ذمہ داریوں کی وجہ سے دل ڈرتا ہو۔جب اُسے کہا جائے کہ قوم کو اس کی جوانی کی ضرورت ہے تو وہ بے دریغ جس راہ کی طرف اسے اشارہ کیا جائے اُس پر چل پڑتا ہے خواہ اس راہ میں جان کا خطرہ ہی کیوں نہ ہو۔اگر اسے کہا جائے کہ تم فوج میں داخل ہو جاؤ تو وہ ہلا خطر فوج میں داخل ہو جاتا ہے اور اپنی بہادری کے کرشمے دکھاتا ہے۔کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اگر میں مارا گیا تو میرے پیچھے کونسے بیوی بچے ہیں جن کی پرورش نہیں کر سکوں گا۔چونکہ یہ زمانہ نئی نئی امنگوں اور نئی نئی آرزوؤں کا ہوتا ہے اس لئے کئی شیطنت کے کام بھی ذہن میں آتے ہیں اس لئے بعض دفعہ غلط راستہ بھی اختیار کر لیتا ہے۔کیونکہ ابھی اس کے اندر دور اندیشی کا مادہ نہیں ہوتا۔لیکن بڑھاپے میں قربانی کا وہ جوش قائم نہیں رہتا کیونکہ بوڑھا انسان دیکھتا ہے کہ میرے بیوی بچے ہیں ان کی پرورش کون کرے گا۔بچوں کی پڑھائی کا انتظام کون کرے گا۔پس بڑھاپے میں وہ دلیری قائم نہیں رہتی جو جوانی میں انسان میں ہوتی ہے اِلَّا مَا شَاءَ اللہ۔اور سچے مومن کے لئے تو باوجود بڑھاپے کے تینوں زمانے موجود ہوتے ہیں۔اس میں بچپن کی فطرت کی صفائی بھی موجود ہوتی ہے اور جوانی کی قربانی کا جوش بھی موجود ہوتا ہے اور حقیقی