خطبات محمود (جلد 27) — Page 327
خطبات محمود الله سة 327 *1946 رسول کریم صلی ال نیلم کے زمانہ میں مسلمان نہایت ہوشیار اور چوکس رہتے تھے اور رسول کریم صلی ال یکم کو کفار کی تمام سازشوں کا علم ہو تار ہتا تھا۔لیکن دشمن کو آپ کی نقل و حرکت کا علم نہ ہو سکتا تھا۔کوئی ایک لشکر بھی مکہ سے نہیں نکلا جس کا رسول کریم ملی الم کو علم نہ ہوا ہو۔حالانکہ صحابہؓ کی حالت یہ تھی کہ وہ مکہ سے نکالے ہوئے تھے اور ان کا مکہ جانا قتل ہونے کے مترادف تھا۔لیکن باوجود اس کے رسول کریم صلی اللہ کریم نے اس قسم کے انتظامات کئے ہوئے تھے کہ کوئی لشکر مکہ سے نکلنے کا ارادہ کرتا تھا تو رسول کریم ملی نیلم کو اس کی قبل از وقت اطلاع ہو جاتی تھی۔لیکن اس کے مقابل پر رسول کریم صلی الی یکم نے ایسا انتظام کیا ہوا تھا کہ کفار کو مسلمانوں کی کوئی بات نہیں پہنچ سکتی تھی۔جب آپ نے مکہ پر چڑھائی کی تو یہ چڑھائی ایسی اچانک تھی کہ کفار بالکل حیران رہ گئے۔اگر کوئی شخص یہ خیال کرے کہ وہ زمانہ ایسا تھا کہ جس میں خبر چھپائی نہیں جاسکتی تھی تو اس کا یہ خیال بالکل غلط ہے۔بعض علاقے ہمارے ملک میں ایسے ہیں جہاں خبر چھپائی نہیں جاسکتی مثلا ڈیرہ غازی خاں اور سندھ کے علاقے میں کوئی خبر ٹھپ نہیں سکتی۔جب ان میں کوئی ایک دوسرے سے ملتا ہے تو وہ ایک دوسرے کو کھڑا کر لیتا ہے اور السَّلَامُ عَلَيْكُم کہنے کے بعد کہتا ہے دیو حال یعنی اپنے علاقہ کا حال بتاؤ۔تو دوسرا آدمی تمام وہ باتیں جن کا اُسے علم ہوتا ہے بیان کرنا شروع کر دیتا ہے کہ فلاں کے گھر بیٹا ہوا ہے، فلاں کی منگنی ہوئی ہے، فلاں کی شادی ہوئی ہے، فلاں جگہ لڑائی ہوئی ہے، فلاں پر مقدمہ کیا گیا ہے اور فلاں کو پولیس کے افسر تلاش کر رہے ہیں۔جب وہ بیان کرتے کرتے تھک جاتا ہے تو دوسرے سے کہتا ہے اچھا تسیں دیو حال۔تو پھر دوسرا شخص اسی طرح تمام باتیں جن کا اسے علم ہو بیان کرنا شروع کرتا ہے اور بیان کرتا چلا جاتا ہے۔جب وہ تھک جاتا ہے تو اپنے پہلے ساتھی سے کہتا ہے کہ دیو حال یعنی جو خبریں باقی رہ گئی تھیں وہ بتاؤ۔اس پر وہ بقیہ خبریں بیان کرنی شروع کرتا ہے۔جب وہ تھک جاتا تو دوسرے سے کہتا ہے کہ تسیں دیو حال۔پھر دوسرا بقیہ خبریں بیان کرنے لگتا ہے۔اس طرح وہ آدھ آدھ گھنٹہ ایک دوسرے کو حال دیتے رہتے ہیں۔پھر جب وہ آگے چلتے ہیں تو جہاں انہیں کوئی اور دوست ملتا ہے تو اس سے حال پوچھتے ہیں اور خود حال بتاتے ہوئے تمام وہ باتیں جو ان کے دوسرے ساتھی نے ان کے سامنے بیان کی تھیں وہ اس کے سامنے بیان کرتے