خطبات محمود (جلد 27) — Page 296
*1946 296 خطبات محمود ان سے معلوم ہوتا ہے کہ غیر ملکوں میں شور مچا ہوا ہے اور وہ اسلام اور احمدیت کے متعلق زیادہ سے زیادہ اپنی رغبت کا اظہار کر رہے ہیں۔ابھی مشرق کی طرف سے ایک چٹھی آئی ہے جس میں ایک ڈچ اور ایک جرمن کے متعلق لکھا ہے کہ وہ اسلام کا مطالعہ کر رہے ہیں۔ان میں سے ایک احمدی ہو چکا ہے اور دوسرا احمدیت کے بہت قریب ہے اور وہ ارادہ کر رہے ہیں کہ ہم اپنے ممالک میں تبلیغ کے لئے چلے جائیں۔اسی طرح ہمارے پرانے نو مسلم جن سے جنگ کی وجہ سے ہمارا تعلق کٹ گیا تھا اور جن سے اس دوران میں ہماری خط و کتابت بھی نہیں رہی تھی، ہم سمجھتے تھے کہ چونکہ وہ نئے نئے اسلام میں داخل ہوئے تھے اب اسلام کی تعلیم ان کے دلوں سے مٹ چکی ہو گی اور وہ پھر اپنے آبائی مذہب کی طرف لوٹ گئے ہوں گے مگر جنگ کے ختم ہونے پر اب پھر ان کی طرف سے خطوط آنے شروع ہو گئے ہیں۔جنگ کے دوران میں بھی البانیہ کے ایک فوجی افسر کی طرف سے خط آیا تھا کہ احمدیت کا لٹریچر مجھے جلد بھجوایا جائے کیونکہ لوگ سخت متمنی ہیں۔لیکن ہم انہیں لٹریچر بھجوا نہیں سکتے تھے کیونکہ جنگ کی وجہ سے اجازت نہیں تھی لیکن اس سے پتہ لگتا تھا کہ ایمان کی چنگاری ابھی ان کے دلوں میں سلگ رہی ہے۔اب اسی ہفتہ میں اور نو مسلموں کی طرف سے بھی چٹھیاں آنی شروع ہو گئی ہیں۔چنانچہ ایاز صاحب جو ہنگری اور پولینڈ کے مبلغ رہ چکے ہیں ان کے ذریعہ جو لوگ اسلام میں داخل ہوئے تھے ان میں سے ایک نو مسلم کی چٹھی آئی ہے۔جس میں اس نے اپنا اور ایک اور دوست کا ذکر کر کے لکھا ہے کہ ہم فلاں جگہ ہیں اور ٹرکی یا اور کسی قریب کے ملک میں جانے کی کوشش کر رہے ہیں۔آپ بھی اس بارہ میں ہمارے لئے کوشش کریں اور تبلیغ کے متعلق ہدایت دیں۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے دلوں میں اسلام کی سچی محبت ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ اور لوگوں تک بھی اسلام کا پیغام پہنچائیں۔اسی طرح کل اٹلی کے مبلغ مولوی محمد شریف صاحب کی طرف سے خط آیا ہے کہ یوگو سلاویہ کے تین بڑے بڑے آدمی جن میں سے ایک انجینئر ، ایک ڈاکٹر اور ایک اور تعلیم یافتہ شخص ہے اس بات کے لئے تیار ہیں کہ قادیان آئیں اور احمدیت سیکھ کر تبلیغ کا کام کریں۔اسی طرح روم کے ایک بڑے آدمی کے متعلق انہوں نے لکھا ہے کہ وہ احمدیت کی طرف مائل ہو رہے ہیں۔یہ خبریں ہیں جو مختلف ممالک کی طرف سے