خطبات محمود (جلد 27) — Page 264
*1946 264 خطبات محمود تبلیغ کر سکے بلکہ اس کا لباس ایسا نہیں کہ وہ اوسط درجہ کے لوگوں میں بھی تبلیغ کر سکے۔وہ غرباء میں ہی پھرتے ہیں اور لباس کی وجہ سے کھاتے پیتے لوگوں کے سامنے نہیں ہو سکتے۔اب دیکھو تبلیغ کے کام میں یہ کتنی بڑی روک ہے۔امریکہ کے اخراجات کے لحاظ سے سو سے لے کر ڈیڑھ سو ڈالر تک تو صرف کھانے پینے کے لئے چاہئے، باقی تبلیغ کے اخراجات کے لئے ٹریکٹوں کی چھپوائی اور ان کی اشاعت کے لئے ریل اور بسوں اور موٹروں کے کرایہ کے لئے ، اسی طرح مختلف قسم کی کتابیں تقسیم کرنے اور لوگوں کے مطالعہ کے لئے، ایک لائبریری قائم کرنے کے لئے الگ اخراجات کی ضرورت ہے۔ان تمام اخراجات کو اگر مد نظر رکھا جائے اور ایک مبلغ سے یہ امید کی جائے کہ وہ صحیح طور پر تبلیغ کرے تو اسے تین سو ڈالر ماہوار دینے چاہئیں۔دوسرے الفاظ میں اس کے یہ معنی ہیں کہ ہمیں ایک مبلغ کو ہزار روپیہ مہینہ دینا چاہئے۔لیکن یہ ہماری طاقت میں نہیں۔یہی وجہ ہے کہ ہم اپنے مبلغوں سے اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ وہ اپنی زندگیاں اتنی سادہ بنائیں کہ اس سے زیادہ سادہ ہونا ان کے لئے ناممکن ہو۔مگر سادگی کی حد تک تو انسان جا سکتا ہے۔اس سے نیچے نہیں جا سکتا۔ہم ان سے یہ تو مطالبہ کر سکتے ہیں کہ چونکہ آجکل تنگی اور مصیبت کے دن ہیں تم گوشت کھانا چھوڑ دو۔ہم یہ بھی مطالبہ کر سکتے ہیں کہ تم دال کھانا بھی چھوڑ دو اور صرف چٹنی سے روٹی کھالیا کرو۔مگر ہم ان سے یہ مطالبہ نہیں کر سکتے کہ تم کچھ کھاؤہی نہیں۔آخر اخراجات کی تنگی ایک حد تک ہی چل سکتی ہے۔اگر ہم اپنے مبلغ کو ایک ہزار روپیہ ماہوار نہیں دے سکتے تو ہمیں اس سے اتر کر اسے پانچ سو یا چھ سو روپیہ ماہوار تو دینا چاہئے۔مگر ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ تم بازار سے لوٹ کر کھا لیا کرو۔اگر بازار سے آٹھ آنے کو روٹی ملتی ہے تو تم آٹھ آنے خرچ کرنے کی بجائے چوری چھپے روٹی اٹھا کر لے آیا کرو۔یا ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ تمہیں اگر کپڑا نہیں ملتا تو ننگے رہا کرو یا دوسروں کے کپڑے چرا کر پہننا شروع کر دو۔ہم یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ تم تبلیغ بند کر دو۔یا اگر تبلیغ کے لئے جاؤ تو بغیر ٹکٹ کے ریل میں سوار ہو جایا کرو۔اسی طرح ہم یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ تم ایک محلہ سے دوسرے محلہ میں نہ جاؤ یا اگر جاؤ تو بس میں زبر دستی بیٹھ جایا کرو۔ہم بہر حال معقول مطالبہ کر سکتے ہیں، غیر معقول نہیں اور ہمارا فرض ہے کہ ہم ان ملکوں کے اخراجات کو مد نظر رکھیں۔ان